اسرائیل نے غزہ کے لیے امدادی کشتی لے جانے پر اغوا کر لیا : گریٹا تھنبرگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسرائیلی فوج کے زیر محاصرہ غزہ کے حق میں آواز اٹھانے والی انسانی حقوق کی کارکن گریٹا تھنبرگ نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج نے اسے فلسطینیوں کے حق میں آواز اٹھانے پر بین الاقوامی سمندروں سے اغوا کر لیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ انہوں نے ایسے کسی دستاویز پر دستخط کرنے سے انکار کیا تھا جس پر لکھا گیا تھا کہ غیر قانونی طور پر ملک میں داخل ہونے پر انہیں ڈی پورٹ کیا جائے۔

اسرائیلی فوج کی طرف سے ڈی پورٹ کیے جانے پر انہوں نے اور ان کی ٹیم نے کوئی قانون شکنی نہیں کی اور میں مطالبہ کرتی ہوں کہ ان تمام کارکنوں کو رہا کیا جائے جو فلوٹیلا کے ساتھ غزہ جانے کی کوشش کر رہے تھے لیکن اسرائیل نے انہیں اغوا کر لیا۔

انہوں نے کہا میں واضح طور پر یہ سمجھتی ہوں اور اس لیے اپنے اغوا کا بیان دے رہی ہوں کہ ہمیں اغوا کیا گیا تھا کیونکہ ہم بین الاقوامی پانیوں میں تھے اور ہمیں زبردستی اسرائیل لے جایا گیا تھا۔ اس لیے ہم نے کوئی بھی قانون نہیں توڑا ہے۔

انہوں نے امریکی صدر ٹرمپ کے اس بیان کا مضحکہ اڑایا جس میں ٹرمپ نے انہیں ناراض شخص قرار دیا تھا۔ میں سمجھتی ہوں کہ ایسی کئی ناراض خواتین کی اس دنیا کو ضرورت ہے جو جاری عالمی حالات میں دیانتداری سے اپنی بات کر سکیں اور آواز اٹھا سکیں۔

22 سالہ تھنبرگ اسرائیلی فوج کے ہاتھوں ان کے بقول اغوا ہونے کے ایک دن بعد پیرس پہنچی ہیں۔ جہاں وہ اپنے دیگر کارکن ساتھیوں کے ساتھ غزہ کے فلسطینیوں کے حق میں آواز بلند کرنے گئی تھیں کہ ان کے خلاف اسرائیلی فوج کا محاصرہ ختم کیا جائے۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ 'فریڈم فلوٹیلا' نامی اس کشتی کو پیر کے روز صبح سویرے روکا تھا۔ جب وہ غزہ کے نزدیک تھی اور ایک سال سے جاری غزہ کے سمندری محاصرے کو توڑنے کی کوشش کر رہی تھی۔ ان میں کشتی کے عملے کے 12 ارکان بھی شامل تھے۔

تھنبرگ نے اس امر کی تردید کی کہ وہ سمندری ناکہ بندی توڑ کر غزہ میں امدادی سامان تقسیم کرنے کی کوشش میں تھی۔ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ پیرس کے بعد ان کی اگلی منزل کیا ہوگی۔ تاہم رپورٹرز کا خیال ہے کہ وہ پیرس کے بعد سویڈن جائیں گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں