سوئٹزرلینڈ : پیوٹن کو امن مذاکرات کے لیے آنے پر گرفتار نہ کرنے کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوئیزر لینڈ نے اعلان کیا ہے کہ روس کے صدر پیوٹن کو جنگی جرائم کے الزام میں گرفتار نہیں کیا جائے گا۔ گرفتاری سے استثنا دینے کے اس فیصلے کی وجہ سویٹزر لینڈ نے یوکرین میں امن کے لیے صدر پیوٹن کے مذاکرات کے لیے سفر میں آسانی پید کرنا بتائی ہے۔

یورپی ملک سوئیزر لینڈ نے منگل کے روز یہ اعلان اس کے باوجود کیا ہے کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت نے پیوٹن کے وارنٹ گرفتاری جاری کر رکھے ہیں۔

منگل کے روز سویٹزر لینڈ کے وزیر خارجہ اگنازیو کیسس نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا یوکرین میں امن کی کوششوں کے لیے ان کا ملک پیوٹن کو اپنے ہاں اترنے کی بھی اجازت دے گا۔

یاد رہے سوئس حکومت نے پچھلے سال بین الاقوامی فوجداری کے وارنٹ گرفتاری کے باوجود گرفتاری سے استثنا دینے کے حوالے سے اپنے ملکی قواعد کی وضاحت کی تھی۔

وزیر خارجہ نے کہا قواعد کے مطابق اگر کوئی ملزم امن کانفرنس کے لیے آتا ہے تو اسے گرفتار نہیں کیا جائے گا۔ البتہ نجی مقاصد کے لیے آنے والے کو یہ استثنا نہیں ملے گا۔

فرانس کے صدر میکروں نے کہا ہے کہ پیوٹن اور یوکرینی صدر زیلنسکی کے درمیان جنگی بندی مذاکرات امکانی طور پر یورپ میں ہوں گے۔ زیادہ امکان ہے کہ یہ ایک غیر جانبدار ملک میں ہوں گے اس لیے سویٹزر لینڈ میں ہونے کا زیادہ امکان ہو سکتا ہے۔

فرانس کے صدر نے منگل کی صبح فرانس کے ایک ٹی وی 'ایل سی آئی' سے بات کرتے ہوئے کہا میں اسی امر کی کوشش کر رہا ہوں کہ یہ ملاقات جنیوا میں ہو۔

وزیر خارجہ سویٹزر لینڈ نے پریس کانفرنس کے دوران کہا ہم پوری طرح اس طرح کی امن کانفرنس کے لیے تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا ایک ایسا ملک جو فوجی اعتبار سے نیوٹرل ہو اس طرح کی امن کوششوں کے لحاظ سے اہم ہوتا ہے۔

تاہم کیسس نے کہا جب سے سویٹزر لینڈ نے اپنے پڑوسی یورپی ملکوں کے ساتھ مل کر روس کے خلاف یوکرین جنگ کی وجہ سے پابندیاں لگانے کا اعلان کیا ہے روس کا رویہ سوٹزر لینڈ کے لیے سرد مہری لیے ہوئے ہے۔

سوئس وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا حالیہ مہینوں کے دوران میرا جب بھی روسی ہم منصب سے رابطہ ہوا میں نے انہیں اپنے ملک کی طرف سے امن کوششوں کی میزبانی کا بتایا ہے۔

خیال رہے روس نے فروری 2024 میں یوکرین پر جنگ مسلط کی تھی۔

روس کا کہنا ہے کہ جب سے سوئٹزر لینڈ نے یورپی یونین والی روس کے خلاف پابندیوں کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا ہے، سوئٹزر لینڈ کی غیر جانبداری متاثر ہو چکی ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں