فلسطین کے وزیر اعظم ڈاکٹر محمد مصطفیٰ نے ’’ العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کو خصوصی انٹرویو دیا۔ اپنی گفتگو میں انہوں کہا کہ فلسطینی عوام اپنی آزاد ریاست کے قیام کے لیے مصر اور دیگر عرب برادر ممالک کی حمایت پر بھروسہ کرتے ہیں۔ رفح کی سرحد پر دیے گئے اس انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ فلسطین کے مسئلے کی حمایت میں مصری اور عرب کوششیں واضح اور ناقابلِ تردید ہیں۔ انہوں نے فلسطینی عوام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھنے پر سب کا شکریہ ادا کیا اور اپنے جائز حقوق کے حصول کے لیے کی جانے والی کوششوں کی حمایت کی درخواست کی اور تنگ نظری اور چھوٹے گروہوں کے دعوؤں کی طرف توجہ نہ دینے کی اپیل کی۔
غزہ کی تعمیر نو کانفرنس کی تیاریاں
ڈاکٹر مصطفیٰ نے مزید کہا کہ اسرائیل کے دو ملین سے زائد فلسطینیوں کو بھوکا رکھنے اور ان کو ان کی زمین سے بے دخل کرنے کی کوششوں کا مقابلہ کرنے میں عرب ممالک کی حمایت ایک اہم اور طاقتور عنصر ثابت ہوئی ہے۔ انہوں نے امداد فراہم کرنے والے تمام دوست اور برادر ملکوں کا شکریہ ادا کیا اور بھوک کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے اور جنگ کو روکنے کے لیے ایک بڑی بین الاقوامی تحریک کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ وہ غزہ کی تعمیر نو کے لیے عرب منصوبے کی بنیاد پر ایک کانفرنس کے انعقاد کی تیاریوں کے سلسلے میں مصر کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے بین الاقوامی اداروں کے ساتھ مل کر غزہ کا انتظام سنبھالنے کے لیے اپنی حکومت کی تیاری کا بھی یقین دلایا۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی مسئلے کی حمایت میں مصر کی مسلسل کوششیں اس مکمل شعور کی وجہ سے ہیں کہ دونوں کا مقدر اور مستقبل مشترک ہے۔ انہوں نے مصر اور اس کی قیادت کا فلسطین کی سیاسی، اقتصادی اور سفارتی حمایت میں کردار ادا کرنے پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا ان لوگوں کی پرواہ نہ کی جائے جو مصر کا کردار کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔