فرانس میں 15 سال سے کم عمر افراد کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی سفارش
یہ کمیٹی مارچ میں اُس وقت قائم کی گئی جب سات خاندانوں نے "ٹک ٹاک" کے خلاف مقدمہ دائر کیا، ان کا الزام تھا کہ اس پلیٹ فارم نے ان کے بچوں کو ایسا مواد دکھایا جو انہیں خود کشی کی طرف دھکیل سکتا تھا
فرانس میں سوشل میڈیا خصوصاً "ٹک ٹاک" کے نفسیاتی اثرات کا جائزہ لینے والی پارلیمانی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں سفارش کی ہے کہ ملک میں 15 سال سے کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا کے استعمال سے روکا جائے۔ مزید یہ کہ 15 سے 18 برس کے نوجوانوں کے لیے رات 10 بجے سے صبح 8 بجے تک سوشل میڈیا کی رسائی بند ہو۔
کمیٹی کی خاتون رکن لور میلر کے مطابق یہ پابندی بچوں اور والدین کو واضح پیغام دے گی کہ سوشل میڈیا 15 سال سے کم عمر کے لیے محفوظ نہیں۔ کمیٹی نے اپنی سفارشات سے پہلے متاثرہ خاندانوں، ٹک ٹاک کے عہدے داروں اور انفلونسرز کی رائے لی۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر آئندہ تین برس میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ... یورپی قوانین، خصوصاً "ڈیجیٹل سروسز ایکٹ" پر مناسب عمل نہ کریں تو 18 سال سے کم عمر کے لیے بھی ان کا استعمال مکمل طور پر ممنوع قرار دیا جا سکتا ہے۔
کمیٹی نے عوامی آگاہی مہم چلانے اور "ڈیجیٹل غفلت" کو والدین کے لیے جرم قرار دینے کی سفارش بھی کی ہے۔ یہ کمیٹی اس وقت بنی تھی جب سات خاندانوں نے 2024 کے آخر میں ٹک ٹاک پر مقدمہ دائر کیا۔ ان کا الزام تھا کہ ان کے بچے خطرناک مواد دیکھ کر خود کشی پر مجبور ہوئے۔
یورپی یونین کی نئی ہدایات نے رکن ممالک کو عمر کی تصدیق کا نظام سخت کرنے کی اجازت دی ہے۔ فرانس، اسپین اور یونان جیسے ممالک بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر مزید کنٹرول چاہتے ہیں۔
ٹک ٹاک پلیٹ فارم کا کہنا ہے کہ نوجوان صارفین کی سلامتی اس کی اولین ترجیح ہے اور وہ 95 فی صد نا مناسب مواد 24 گھنٹوں میں اور اکثر اسے دیکھے جانے سے پہلے ہی ہٹا دیتا ہے۔