فرانس: مساجد کے باہر سور کے کٹے ہوئے سر پھینکنے کے واقعات میں غیر ملکی ملوث ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹہ

پیرس کے علاقے میں قائم پراسیکیوٹر کے دفتر نے دعویٰ کیا ہے کہ فرانس میں مختلف مساجد کے باہر خنزیر کے سر کاٹ کر پھینکنے کے واقعات میں ان غیر ملکیوں کا دخل ہے جو حالیہ دنوں میں فرانس سے واپس گئے ہیں۔ان کا مقصد فرانس میں بے چینی پھیلانا ہے۔

نارمنڈی کے شمالی علاقے میں تفتیش کاروں کو ایک کسان نے بتایا دو لوگ گاڑی پر آئے جن کی گاڑی کی نمبر پلیٹ سربیئن معلوم ہوتی تھی۔ انہوں نے خنزیروں کے کئی سر اس سے خریدے اور چلے گئے۔

پراسیکیوٹر کے دفتر کا کہنا ہے کہ وہ ان رپورٹس کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ تاہم پراسیکیوٹر نے یہ دعویٰ کرتے ہوئے نہیں بتایا کہ مسلمانوں کی دل آزاری اور مساجد کی بے حرمتی کرنے کے پیچھے کس ملک سے تعلق رکھنے والے غیر ملکی ملوث ہیں۔ جنہوں نے حال ہی میں فرانس سے روانگی پکڑی تھی۔

یاد رہے فرانس کے صدر میکروں کی طرف سے فلسطینی ریاست کو ماہ ستمبر میں تسلیم کرنے کے اعلان کے بعد اسرائیلی ریاست اور اسرائیلیوں کا فرانس کے بارے میں غصہ غیر معمولی حد تک بڑھا ہوا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں