ڈالر، ڈالر بس ڈالر:ٹیرف پالیسی کےبعد ایچ ون بی ویزوں کےبدلے میں بھی بھاری ٹیکسوں کا منصوبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ امریکی کمپنیوں سے یہ مطالبہ کرنے کے لیے منصوبہ بندی کر رہی ہے کہ وہ ان کارکنوں کے بدلے میں جو ان کے ہاں کام کرتے ہیں اور 'ایچ ون بی ویزا' کے بدلے امریکہ آتے ہیں۔ وہ کمپنیاں ایک لاکھ ڈالر ٹیکس کی مد میں ادا کریں۔ اس سے امریکی کمپنیاں جو سائنس و ٹیکنالوجی سے متعلق مصنوعات اور خدمات کے معاملے میں سرگرم ہیں ان کے کاروبار کو سخت دھچکہ لگنے کا اندیشہ پیدا ہوگیا ہے کہ انہیں ایک اضافی رقم امریکی انتظامیہ کے حکم پر سرکار کو ادا کرنا پڑے گی۔

امریکی صدر ٹرمپ جب سے برسر اقتدار آئے ہیں وہ امریکی معیشت کو مضبوط دیکھنے کے لیے مختلف اقدامات کر رہے ہیں اور مختلف نئی پالیسیاں متعارف کرا رہے ہیں۔

امریکی معیشت کی مضبوطی ہی کے پس منظر میں انہوں نے 'یو ایس ایڈ' کا ادارہ ختم کر کے فنڈز کو بچایا ہے۔ جس سے اگرچہ بہت سارے لوگوں کا روزگار بھی خطرے میں پڑ گیا۔

اسی پس منظر میں امریکی ٹرمپ انتظامیہ نے امیگرینٹس کے خلاف مسلسل کریک ڈاؤن جاری کر رکھا ہوا ہے اور اب تک کئی ملکوں کے سینکڑوں کارکنوں کو 'ڈی پورٹ' کر چکی ہے۔

ٹیرف کی صدر ٹرمپ کی پالیسی بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ ریوینیو دوسرے ملکوں سے ٹیکسوں کی مد میں وصول کیا جا سکے اور اب ٹرمپ انتظامیہ نے اپنے ہی ملک کی کمپنیوں پر بھی اسی وجہ سے بوجھ لادنے کی نئی پالیسی کا عندیہ دیا ہے۔

جس کے تحت وہ ایک طرف ہر کمپنی سے سالانہ ایک لاکھ ڈالر کا مطالبہ کرنے جا رہی ہے اور دوسری طرف اسی راستے سے تکنیکی صلاحتیں رکھنے والے کارکنوں کی امریکہ آمد کو کم کریں گے۔ تاہم امریکی معیشت کے ماہرین اور مبصرین کا کہنا ہے کہ اس سے اگر وقتی طور پر امریکی خزانے میں کچھ بہتری بھی آگئی تو یہ خطرہ بہرحال موجود ہوگا کہ اس سے امریکی تجارتی و صنعتی کمپنیوں کو بڑا دھچکہ لگ سکتا ہے۔

یاد رہے ٹیکنالوجی سے متعلق انہی امریکی کمپنیوں نے ٹرمپ کی انتخابی مہم میں بڑھ چڑھ کر فنڈنگ کی تھی۔ اب ان کمپنیوں نے امریکی انتظامیہ کے اس اعلان کے بعد اپنے کارکنوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس وقت تک امریکہ سے باہر نہ جائیں جب تک اس معاملے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہو جاتا۔ حتیٰ کہ کمپنیوں نے 'ایچ ون بی ویزا' رکھنے والے ان کارکنوں کو بھی واپس بلا لیا ہے جو چھٹی پر یا کسی مصروفیت کے لیے امریکہ سے باہر گئے ہوئے ہیں۔

امریکی کمپنیوں کے اس ٹرمپ انتظامیہ کے اعلان پر سخت ردعمل میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ یہ امریکیوں کو ملازمتوں سے دور رکھنے کی کوشش ہے کیونکہ اس صورت میں کمپنیاں اپنی اجرتوں کے بوجدھ کو مزید بڑھانا قبول نہیں کر سکیں گی۔

دوسری جانب امریکی انتظامیہ اس مؤقف پر قائم ہے کہ کچھ کمپنیوں نے اجرتوں میں اضافے کو روکنے کے لیے اس پروگرام کا غلط استعمال کیا ہے اور یہ چیز امریکی کارکنوں کے لیے نقصان کا باعث بنے گی۔

یاد رہے امریکہ میں غیر ملکی تکنیکی کارکنوں کی تعداد 2000 اور 2019 کے درمیان 25 لاکھ تک چلی گئی تھی۔

لیکن اب ٹرمپ کے اس فیصلے پر عمل کی صورت میں لاکھوں ڈالر کے اضافی بوجھ کا سامنا ہوگا۔ خطرہ ہے کہ اس سے امریکہ میں شروع ہونے والے نئے سٹارٹ ایپس بطور خاص متاثر ہوں گے۔

خیال رہے اس امریکی فیصلے کے نتیجے میں 71 فیصد بھارتی کارکن متاثر ہوں گے۔ جو 'ایچ ون بی ویزے' سے فائدہ اٹھاتے ہیں جبکہ دوسرے نمبر پر چین کے شہری ہیں جو متاثر ہوں گے۔ جن کی تعداد پچھلے اعداد و شمار کے مطابق ٹوٹل 'ایچ ون بی ویزا' رکھنے والوں کی تعداد کا 11.7 فیصد ہے۔

صدر ٹرمپ کی اس نئی پالیسی کے بارے میں ابھی امریکی کمپنیوں نے کسی باضابطہ ردعمل کے اظہار سے گریز کیا ہے۔ نیو یارک میں بھارت و چین کے قونصل خانوں نے بھی اس پر کوئی فوری تبصرہ نہیں کیا۔

اس سے لگتا ہے کہ آنے والے دنوں میں نہ صرف امریکہ کی اپنی کمپنیوں میں ٹرمپ کی پالیسی کافی شور اور بحث کا موقع پیدا کرے گی بلکہ بھارت کے لیے بھی ایک نئی بری خبر کی تیاری ہو رہی ہوگی۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں