ٹرمپ انتظامیہ اسرائیل کو 6 ارب 40 کروڑ ڈالر کا اسلحہ بیچنے کی منظوری کیلئے کوشاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹہ

وال سٹریٹ جرنل (ڈبلیو ایس جے) نے جمعہ کو اطلاع دی کہ ٹرمپ انتظامیہ اسرائیل کو تقریباً چھے بلین ڈالر کے ہتھیاروں کی فروخت پر غور کر رہی ہے۔

معاملے سے باخبر حلقوں کے مطابق وائٹ ہاؤس کو اس معاہدے کے لیے کانگریس کی منظوری درکار ہے جس میں 30 اے ایچ-64 اپاچی ہیلی کاپٹروں کے لیے 3.8 بلین ڈالر اور اسرائیلی فوج کے لیے 3,250 انفنٹری اسالٹ گاڑیوں کے لیے 1.9 بلین ڈالر شامل ہیں۔

ڈبلیو ایس جے نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے اہلکاروں نے تقریباً 30 دن پہلے کانگریس کو اس سلسلے میں پہلی تجویز پیش کی تھی۔ اور حالانکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ قطر میں حماس کے اہلکاروں پر حملہ کرنے کے فیصلے پر اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو سے خفا اور مایوس ہیں لیکن پھر بھی انتظامیہ نے اسرائیل کو تازہ ترین فروخت کی منظوری کے لیے انتظامیہ پر دباؤ ڈالنا بند نہیں کیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فروخت کی منظوری مل جانے کے باوجود بھی اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی میں دو سے تین سال لگیں گے۔

دستاویزات کے مطابق "اسلحے کی ادائیگی امریکہ کی فراہم کردہ غیر ملکی فوجی اعانت سے ہو گی۔ اسرائیل اپنے زیادہ تر امریکی ساختہ ہتھیار امریکی ٹیکس دہندگان کی رقم سے خریدتا ہے جو سالانہ فوجی امداد کے لیے اربوں ڈالر کی مد میں آتی ہے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں