Untitled

ایچ بی ون ویزہ سے متعلق ٹرمپ کا فیصلہ بھارتی طلبہ پر بجلی بن کر گرا، جانیے کیسے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایچ بی ون ویزہ فیس میں بڑے اضافے کے اعلان نے ہزاروں بھارتی شہریوں کو ہنگامی طور پر امریکہ لوٹنے پر مجبور کر دیا، جب کہ اس پیش رفت کے باعث بھارتی روپے پر دباؤ میں مزید اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

ٹیکنالوجی کمپنیوں اور بینکوں نے اپنے ملازمین کو فوری طور پر امریکہ واپسی کی ہدایت جاری کی ہے، جس کے نتیجے میں کئی لوگوں نے چھٹیاں ادھوری چھوڑ کر واپس پروازیں پکڑ لیں۔

ٹرمپ انتظامیہ نے چند روز قبل ہی اعلان کیا تھا کہ کمپنیوں کو غیر ملکی ملازمین کے لیے ایچ بی ون ویزہ کی ایک لاکھ ڈالر فیس ادا کرنا ہو گی۔

تاہم بعدازاں وضاحت دی گئی کہ یہ فیس صرف ایک مرتبہ ادا کرنا ہو گی۔ لیکن اس کے باوجود شدید بے یقینی نے کئی کمپنیوں اور ملازمین کو متاثر کیا۔

ایچ بی ون ویزا زیادہ تر بھارتی تارکین وطن استعمال کرتے ہیں۔ بھارت کا اس میں 71 فیصد حصہ ہے۔

بھارتی آئی ٹی انڈسٹری کے مطابق اس فیس سے بھارتی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی عالمی سرگرمیوں میں خلل پڑ سکتا ہے۔

سان فرانسسکو ایئر پورٹ پر ایسے مناظر دیکھنے کو ملے جہاں متعدد بھارتی شہریوں نے پروازوں سے اترنے کی درخواست کی تاکہ وہ امریکہ واپس جا سکیں۔ ایک انجنیئر نے رائٹرز کو بتایا کہ ’یہ ایک ایسی صورتحال ہے جہاں ہمیں خاندان اور یہاں قیام کے درمیان انتخاب کرنا پڑا۔‘

ایک دوسرے بھارتی انجنیئر نے کہا: ’یہ سب کسی فلم کی طرح ہے، سب کچھ لمحوں میں بدل گیا۔‘

ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیوں جیسے مائیکرو سافٹ، ایمازون، گوگل اور گولڈ مین سیکس نے بھی اپنے عملے کو ایڈوائزری جاری کی۔

تاہم بعد ازاں وائٹ ہاؤس حکام نے وضاحت کی کہ نئی فیس صرف نئے درخواست گزاروں پر لاگو ہو گی، جب کہ موجودہ ویزہ ہولڈرز اور ری نیوول کے خواہش مند اس حکم نامے سے متاثر نہیں ہوں گے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں