امریکہ نے غیر ملکی طلباء کی ویزا درخواستیں عارضی طور پر معطل کر دیں
درخواست گذار طلباء کے وشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانچ لازم قرار
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے غیر ملکی طلباء کی ویزا کے حصول کی تمام درخواستیں معطل کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت اب ان تمام درخواستوں پر کارروائی اس وقت تک نہیں ہوگی جب تک درخواست دہندگان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی مکمل جانچ نہیں کر لی جاتی۔
امریکی وزارت خارجہ نے العربیہ اور الحدث کو تصدیق کی ہے کہ وزیر خارجہ روبیو کا حکم ہے کہ طلباء کی ویزا درخواستوں پر کارروائی اس وقت تک مؤخر رہے گی جب تک سوشل میڈیا پر ان کی سرگرمیوں کا مکمل جائزہ نہ لے لیا جائے۔
ایک داخلی دستاویز میں تمام امریکی سفارت خانوں اور قونصل خانوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ طلباء اور تعلیمی تبادلے کے نئے ویزا کے لیے کسی بھی قسم کی نئی اپائنٹمنٹ یا تاریخ نہ دیں، جب تک کہ نئی ہدایات موصول نہ ہوں۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے "اے ایف پی " کے مطابق دستاویز میں مزید کہا گیا ہے کہ " سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی لازمی جانچ میں متوقع وسعت کے پیش نظر، قونصل خانوں کو ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ تا حکم ثانی تعلیمی یا ثقافتی تبادلے سے متعلق ویزا کے لیے کسی بھی نئی اپائنٹمنٹ کا اضافہ نہ کریں"۔
دستاویز میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ سوشل میڈیا پر کن باتوں یا سرگرمیوں کو جانچ کا معیار بنایا جائے گا، تاہم اس میں بعض ایسے انتظامی احکامات کا حوالہ ضرور دیا گیا ہے جن کا تعلق "دہشت گردی" اور "یہود دشمنی" کے انسداد سے ہے۔
دوسری جانب امریکی ویب سائٹ "پولیٹیکو" نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی وزارت خارجہ کے متعدد ملازمین نے غیر رسمی گفتگو میں ان ہدایات پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کے بقول ہدایات مبہم ہیں اور یہ بات واضح نہیں کہ آیا سوشل میڈیا پر محض فلسطینی پرچم کی تصویر پوسٹ کرنے جیسا عمل بھی کسی طالب علم کے لیے سکیورٹی جانچ کا باعث بن سکتا ہے یا نہیں۔
واضح رہے کہ اس سے قبل بھی امریکی حکومت نے طلباء کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانچ سے متعلق کچھ اقدامات متعارف کرائے تھے، تاہم وہ مخصوص طور پر ان طلبا پر لاگو ہوتے تھے جو غزہ پر جاری جنگ کے تناظر میں اسرائیل مخالف مظاہروں میں شریک ہوئے تھے۔