امریکا اور بھارت کے درمیان محصولات (علامتی تصویر - آئی اسٹاک)
بھارت محصولات میں کمی کے بدلے امریکی مکئی خریدنے پر غور کر رہا ہے
نئی دہلی 25 فی صد کی تعزیری کسٹم ڈیوٹی کے خاتمے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے
بھارت امریکہ سے مکئی درآمد کرنے پر غور کر رہا ہے تاکہ اسے ایتھانول کی تیاری میں استعمال کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ توانائی کی خریداری میں بھی اضافہ متوقع ہے۔ یہ اقدامات دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی معاہدے تک پہنچنے کے لیے نئی پیش کشوں کا حصہ ہیں۔
نئی دہلی 25 فی صد کی ان تعزیری ڈیوٹیوں کے خاتمے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے جو روسی تیل کی خریداری پر بھارت پر عائد کی گئی تھیں۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ بھارت کی روس سے تیل کی خریداری یوکرین میں جنگ کے لیے مالی معاونت کا باعث بن رہی ہے۔
ایک بھارتی عہدے دار نے خبر رساں ایجنسی "ڈی پی اے" کو بتایا "نئی پیش کشیں سامنے آئی ہیں، اور مکئی خرید کر میتھانول تیار کرنے پر بات چیت ہو رہی ہے"۔
یہ پیش رفت ایسے وقت ہوئی ہے جب امریکہ، بھارت پر سویا بین اور امریکی مکئی خریدنے کے لیے بھی دباؤ ڈال رہا ہے لیکن نئی دہلی اب تک جینیاتی طور پر تبدیل شدہ اقسام سے متعلق خدشات کے باعث مزاحمت کرتا آیا ہے۔
گزشتہ ماہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی درآمدات پر 25 فی صد تعزیری محصولات عائد کیے جو 27 اگست سے نافذ ہو گئے، اس کے نتیجے میں مجموعی ٹیرف 50 فی صد تک پہنچ گیا۔ یہ اقدام روس کے یوکرین پر حملے کے بعد ماسکو پر دباؤ ڈالنے کی امریکی مہم کا حصہ ہے۔
بھارتی وزیر تجارت پیوش گوئل نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ بھارت امریکہ سے تیل اور گیس کی خریداری میں اضافہ چاہتا ہے۔ گوئل کے مطابق ان کا ملک واشنگٹن کو بھارتی برآمدات پر محصولات کم کرنے اور تجارتی معاہدے تک پہنچنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔