بھارت : 'ایکس' کا مواد ہٹانے کے عدالتی فیصلے پر ایلون مسک کو تشویش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت میں ایک عدالت نے ایلون مسک کے لیے سخت تشویش اور فکرمندی پیدا کردی ہے۔ یہ عدالتی فیصلہ کے ایلون مسک کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ' ایکس' پر پوسٹ کردہ مواد کو ہٹانے کے متعلق دیا گیا۔

عدالت کے سامنے 'ایکس' پر لگائے گئے مواد کو ختم کرنے کے میکانزم پر اعتراضات کیے گئے تھے۔ عدالت کا یہ فیصلہ پیر کے روز سامنے آیا ہے۔

ایلون مسک نے اس بارے میں گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کی جائے گی۔ کیونکہ عدالتی فیصلہ آزادی اظہار کے خلاف ہے۔

سوشل میڈیا یلیٹ فارم نے اسے آزادی اظہار کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح سنسر شپ نافذ کی جارہی ہے۔

دوسری جانب بھارت کی مودی سرکار کا کہنا ہے کہ اس عدالتی فیصلے سے آن لائن آنے والے غلط مواد کا احتساب ہو سکے گا۔ نیز غیر قانونی مواد سے نمٹا جا سکے گا۔

اس سلسلے میں کہا گیا ہے کہ قانون میں اس نئے طریقہ کار کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔ اس کے نتیجے میں ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے فیصلوں اور آزادی اظہار کے حق کی خلاف ورزی ہوگی۔

بھارت کی مودی حکومت نے سال 2023 سے انٹرنیٹ بندش کو تیز کر رکھا ہے۔

خیال رہے گزشتہ ہفتے ایک بھارتی جج نے کہا تھا کہ ہر پلیٹ فارم کو اس امر کو قبول کرنا چاہیے کہ اظہار رائے کی آزادی ذمہ داری کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں