اسپین : اسرائیل کے لیے اسلحہ لے جانے والے امریکی جہازوں اور طیاروں کے گزرنے پر پابندی عائد
میڈرڈ نے غزہ کی صورتِ حال کے باعث تل ابیب کے خلاف سخت موقف اختیار کیا ہے
اسپین نے اعلان کیا ہے کہ وہ امریکی طیاروں یا جہازوں کو جو ہتھیار، گولہ بارود یا فوجی ساز و سامان لے کر اسرائیل جا رہے ہیں، روتا (صوبہ کیڈس) اور مورون ڈی لا فرونترا (صوبہ سیویلہ) کے اڈوں سے عبور کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ یہ بات ہسپانوی اخبار "ایل بایس" نے بتائی۔
اخبار کے مطابق یہ پابندی ان جہازوں پر بھی لاگو ہو گی جن کی آخری منزل اسرائیل ہو، خواہ وہ دوران سفر اسپین کے اڈوں پر مختصر قیام کریں۔
اسپین کے حکام امریکی نقل و حمل کے طیاروں یا جہازوں کی تلاشی نہیں لیں گے، جس سے پینٹاگان کے لیے یہ ممکن ہو جائے گا کہ وہ جہازوں پر موجود سامان کی نوعیت کو مخفی رکھ سکے۔
اخبار نے اس حوالے سے بتایا کہ اتحادیوں کے درمیان تعلقات اعتماد پر مبنی ہوتے ہیں اور ایسی صورت حال میں اس اعتماد کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔
میڈرڈ نے غزہ کی پٹی میں موجود حالات کی وجہ سے تل ابیب کے خلاف سخت موقف اختیار کیا ہے۔ اس سے قبل اسپین کی کابینہ نے ایک فرمان کی منظوری دی تھی جس میں اسرائیل کو ہتھیاروں کی فروخت پر پابندی عائد کی گئی۔
اس تعلقات میں کشیدگی اکتوبر 2023 میں شروع ہوئی، جب اسپین کی حکومت نے حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد یورپی کمیشن کی فلسطینیوں کے لیے امداد معطل کرنے پر مخالفت اور عدم اطمینان کا اظہار کیا۔
اسی ماہ اسپین کی وزیر برائے سماجی حقوق ایونی بیلارا نے یورپی ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ غزہ میں انسانی صورت حال کے پیش نظر اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کریں۔
مئی 2024 میں اسپین کی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز کی حکومت نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا۔ اس کے ایک ماہ بعد اسپین یورپی یونین کا پہلا رکن ملک بنا جس نے جنوبی افریقا کی جانب سے اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی عدالت انصاف میں دائر کی گئی درخواست میں شمولیت اختیار کی۔
چند دن قبل اسپین کی عدلیہ نے غزہ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کا اعلان کیا تاکہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کو شواہد فراہم کیے جا سکیں۔
تعلقات اس وقت مزید بگڑے جب سانچیز نے غزہ کی صورت حال کو "نسل کشی" قرار دیا، اور وہ پہلے یورپی رہنما بنے جنہوں نے یہ اصطلاح استعمال کی، جبکہ اسرائیل نے سختی سے انکار کیا کہ اس کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں نہیں آتی ہیں۔
اسپین کی حکومت نے اسرائیل کو ہتھیار برآمد کرنے پر پابندی عائد کر دی، جس میں 70 کروڑ یورو مالیت کے اسرائیلی ساختہ راکٹ لانچر خریدنے کا معاہدہ بھی منسوخ کیا گیا۔
مزید برآں، اسپین کی وزارت دفاع نے اسرائیلی کمپنی "رافائیل" سے 168 راکٹ لانچر اور 1680 ٹینک مخالف راکٹ خریدنے کا 28.75 کروڑ یورو مالیت کا معاہدہ بھی منسوخ کر دیا۔ یہ بات "ایل بایس" اخبار نے حکومتی ذرائع کے حوالے سے بتائی۔
اسپین کی وزارت داخلہ نے بھی اسرائیلی کمپنی سے 68 لاکھ یورو مالیت کا گولہ بارود خریدنے کا معاہدہ منسوخ کر دیا، جس کے لیے بائیں بازو کی پارٹی "سومار" نے دباؤ ڈالا۔
اس کے علاوہ میڈرڈ نے اپنی بندرگاہوں اور فضائی حدود کو اسرائیل کو ہتھیار پہنچانے والے جہازوں اور طیاروں کے لیے بند کرنے کا فیصلہ کیا۔
-
ٹرمپ کی غزہ کی جنگ بندی کی خواہش کے سامنے کون سی رکاوٹیں ہیں ؟
سابق مصر سفیر عاطف سالم نے 21 نکاتی منصوبے کے حوالے سے ہر فریق کے نظریات میں خلا ...
بين الاقوامى -
غزہ پر شدید بم باری ، اسرائیلی فوج کا الشفاء ہسپتال کے گرد علاقہ خالی کرنے کا حکم
اسرائیلی فوج نے غزہ کے مغربی علاقے النصر میں گھروں کو کئی ٹن دھماکہ خیز مواد سے ...
بين الاقوامى -
غزہ میں فوج کو 'کارروائی کی مکمل آزادی' دی جائے: اسرائیلی وزیر کا مطالبہ
اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے وزیرِ خزانہ نے پیر کو اصرار کیا کہ فوج کی غزہ میں ...
مشرق وسطی