مانچسٹر میں معبد کے قریب حملہ،حملہ آور سمیت تین افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ کے وزیر اعظم کیر اسٹارمر نے کہا ہے کہ مانچسٹر میں ایک یہودی معبد کے قریب جمعرات کے روز ہونے والے حملے پر وہ شدید صدمے میں ہیں۔ اس واقعے میں 3 افراد ہلاک ہوئے جن میں حملہ آور بھی شامل ہے، جب کہ کئی افراد زخمی ہوئے۔

اسٹارمر نے کہا کہ یہ حملہ ایک یہودی مذہبی تہوار ’’یوم غفران‘‘ کے موقع پر ہوا جو معاملے کو مزید خوفناک بنا دیتا ہے۔ ان کے مطابق اس واقعے پر غور کے لیے وہ ایک ہنگامی حکومتی اجلاس طلب کر رہے ہیں۔

برطانوی پولیس نے تصدیق کی کہ مانچسٹر کے علاقے کرامپسال میں کنیس کے باہر گاڑی سے کچلنے اور چاقو سے حملے کے نتیجے میں 3 افراد مارے گئے اور ایک شخص زخمی ہوا۔ پولیس کے مطابق اہلکاروں نے مشتبہ شخص پر فائرنگ کی۔

مانچسٹر کے میئر اینڈی برنہام نے واقعے کو ’’سنگین حادثہ‘‘ قرار دیتے ہوئے شہریوں کو علاقے سے دور رہنے کا مشورہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ فوری خطرہ ٹل گیا ہے اور پولیس نے موقع پر مؤثر کارروائی کی ہے۔

برطانوی میڈیا کے مطابق مانچسٹر پولیس نے یہ بھی بتایا کہ کرامپسال کنیس کے قریب حملہ آور پر فائرنگ کی گئی، تاہم اس کی حالت کے بارے میں ابتدا میں کچھ نہیں بتایا گیا۔ بعدازاں میئر برنہام نے کہا کہ شبہ ہے کہ حملہ آور اپنی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہوگیا۔

شمال مغربی انگلینڈ کی ایمبولینس سروس نے بیان میں کہا کہ کرامپسال میں ایک ’’بڑے حادثے‘‘ کی اطلاع ملنے کے بعد ریسکیو ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔ ترجمان کے مطابق ہماری اولین ترجیح متاثرین کو فوری طبی امداد فراہم کرنا اور دیگر ہنگامی اداروں کے ساتھ مل کر صورت حال کو قابو میں لانا ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں