مغربی کنارے کے گاؤں بیت عور الفوقا میں مقامی رہائشی 'اشرف سمارہ' مایوسی کے عالم میں دیکھ رہا تھا کہ اسرائیلی مشینری (بلڈوزر) اس کی بستی کے اطراف زمین ہموار کر رہی ہے۔ ان تعمیراتی کاموں کے ذریعے نئی سڑکیں بنائی جا رہی ہیں جو یہودی بستیوں کو جوڑیں گی اور فلسطینی علاقوں کو مزید تقسیم کر دیں گی۔
مسلح سیکیورٹی اہلکاروں کی نگرانی میں ہونے والے یہ اقدامات فلسطینیوں کی آمدورفت پر نئی پابندیاں عائد کر رہے ہیں۔ سمارہ نے جو مقامی کونسل کے رکن ہیں، بتایا کہ مقصد یہ ہے کہ فلسطینی ان سڑکوں تک پہنچ ہی نہ سکیں، تاکہ ان کی نقل و حرکت صرف ان کے رہائشی علاقوں تک محدود ہو جائے۔ ہر نئی سڑک یہودی آباد کاروں کی رسائی آسان بناتی ہے جبکہ فلسطینیوں کے لیے قریبی شہروں، کھیتوں اور کام کی جگہوں تک پہنچنا مزید مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
ستمبر میں برطانیہ اور فرانس سمیت کئی یورپی ممالک نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا، مگر اسی دوران وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت کی جانب سے مغربی کنارے میں بستیوں کی توسیع تیز تر ہو گئی۔ فلسطینی اور بیشتر ممالک ان بستیوں کو بین الاقوامی قانون کے مطابق غیر قانونی سمجھتے ہیں، جبکہ اسرائیل اس موقف کو رد کرتا ہے۔
اسرائیلی تنظیم "Peace Now" کی ہاجیت عوفران کے مطابق بیت عور الفوقا کے گرد بنی سڑکیں اسرائیل کی جانب سے مزید فلسطینی زمین پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش ہیں۔ ان کے مطابق "یہ زمینی حقائق مسلط کرنے کی حکمتِ عملی ہے، جتنی طاقت ہے اتنا پیسا لگایا جا رہا ہے۔"
عوفران نے بتایا کہ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملوں کے بعد سے اسرائیل مغربی کنارے میں سڑکوں کی تعمیر کے لیے 7 ارب شیکل (2.11 ارب ڈالر) مختص کر چکا ہے۔ واضح رہے کہ 1967 کی جنگ کے بعد سے ان بستیوں کا حجم اور تعداد مسلسل بڑھتی جا رہی ہے اور انھیں اسرائیلی کنٹرول میں سڑکوں اور بنیادی ڈھانچے کے جال سے جوڑا گیا ہے۔
اسرائیلی انسانی حقوق تنظیم "بتسیلم" نے 2004 میں اس نیٹ ورک کو "امتیازی سڑکوں کا نظام" قرار دیا تھا جو فلسطینی شہری ترقی کا گلا گھونٹنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ کے منصوبے سے قبل اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو واضح کر چکے تھے کہ "فلسطینی ریاست کبھی قائم نہیں ہوگی"۔ انھوں نے گزشتہ ماہ مغربی کنارے میں ایک بڑے توسیعی منصوبے کی منظوری دی تھی۔ وزیر خزانہ بتسلئیل سموٹرچ نے اسے "فلسطینی ریاست کے تصور کو دفن کرنے"کے مترادف قرار دیا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ ٹرمپ کا منصوبہ فلسطینی ریاست کا ایک ممکنہ راستہ دکھاتا ہے، لیکن اس میں شامل شرائط اتنی سخت ہیں کہ اس کا عملی نفاذ یقینی نہیں۔ عوفران کے مطابق حکومت مغربی کنارے میں مزید دس لاکھ آباد کاروں کے لیے انفرا اسٹرکچر تیار کر رہی ہے، کیونکہ "جب سڑکیں بن جائیں گی تو لوگ خود بخود آ جائیں گے"۔