ٹرمپ انتظامیہ پیدائش کے وقت شہریت دینے کے حق کو ختم نہیں کر سکتی : وفاقی عدالت
جون کے بعد سے اب تک یہ پانچویں وفاقی عدالت ہے جس نے صدارتی حکم پر عمل درآمد روکنے کے فیصلے کی توثیق کی ہے.
امریکہ کے شہر بوسٹن میں وفاقی اپیل کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ملک میں غیر قانونی یا عارضی طور پر مقیم افراد کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں کو شہریت دینے سے انکار نہیں کر سکتی۔
امریکی فرسٹ سرکٹ کورٹ آف اپیلز کے تین ججوں پر مشتمل بینچ جمعے کے روز اس فیصلے کے ذریعے، جون سے اب تک پانچویں وفاقی عدالت بن گئی ہے جس نے ٹرمپ کے اس حکم کو روکنے کا یا اس کے خلاف فیصلہ سنایا ہے۔ ٹرمپ کے حکم کا مقصد ایسے بچوں کو پیدائش کے وقت خودکار طور پر شہریت دینے کا سلسلہ ختم کرنا تھا۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
عدالت کے مطابق درخواست گزار غالب امکان رکھتے ہیں کہ وہ اس بات کو ثابت کر سکیں گے کہ جن بچوں کا ذکر صدارتی حکم میں کیا گیا ہے، وہ امریکی آئین کی چودھویں ترمیم میں شامل شہریت کی شق کے تحت پیدائش کے وقت شہریت حاصل کرنے کے اہل ہیں۔
امید کی جا رہی ہے کہ اس معاملے کو جلد ہی سپریم کورٹ میں بھیج دیا جائے گا جس نے رواں سال جون میں اپنے ایک فیصلے میں نچلی عدالتوں کے ججوں کی ملک گیر سطح پر حکم جاری کرنے کے اختیارات کو محدود کر دیا تھا۔
اسی طرح جمعے کو ایک اور وفاقی اپیل کورٹ نے بھی متعدد تنظیموں کے حق میں فیصلہ سنایا جنھوں نے پیدائش کے وقت شہریت دینے کے خاتمے سے متعلق ٹرمپ کے حکم کو چیلنج کیا تھا۔