امریکی صدر نے جمعے کی شب حماس تنظیم کے اس اعلان کا خیر مقدم کیا جس میں اس نے غزہ کی جنگ کے خاتمے کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کی امن منصوبہ بندی کے بعض نکات کو قبول کیا۔ ٹرمپ نے اسے "پائے دار امن کی آمادگی" قرار دیتے ہوئے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ غزہ پر بم باری فوری طور پر روک دے تاکہ قیدیوں کو محفوظ اور تیز رفتاری سے نکالا جا سکے۔
انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل" پر لکھا کہ حماس کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مستقل امن کے لیے تیار ہے۔ انھوں نے کہا کہ فریقین کے درمیان کچھ تفصیلات پر پہلے ہی بات چیت جاری ہے اور معاملہ صرف غزہ تک محدود نہیں بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کے طویل مدتی امن سے جڑا ہے۔
ٹرمپ نے اپنے اکاؤنٹ پر حماس کے جواب کا انگریزی متن بھی جاری کیا۔ بعد ازاں ایک وڈیو پیغام میں انھوں نے کہا کہ منصوبے کے تحت تمام فریقوں کے ساتھ منصفانہ سلوک کیا جائے گا۔ انھوں نے حماس کی جانب سے قیدیوں کی رہائی پر آمادگی کو سراہا اور اس دن کو خاص اور غیر معمولی قرار دیا۔
امریکی صدر نے کہا "یہ ایک اہم دن ہے، دیکھتے ہیں انجام کیا ہوتا ہے، ہمیں حتمی مرحلے کو مضبوطی سے تحریر کرنا ہو گا"۔ انھوں نے قیدیوں اور ہلاک شدگان کی لاشوں کو ان کے خاندانوں تک واپس لانے کے عزم کا اظہار کیا اور سعودی عرب، قطر، مصر، اردن، ترکی اور دیگر ممالک کا شکریہ ادا کیا۔ ٹرمپ کے مطابق خطہ امن کے حصول کے قریب ہے۔
اس سے قبل جمعے کی شام حماس نے اعلان کیا کہ اس نے ٹرمپ کے منصوبے پر اپنا جواب ثالثوں یعنی مصر اور قطر کو پہنچا دیا ہے۔ تنظیم نے کہا کہ وہ منصوبے کے کچھ نکات سے متفق ہے جبکہ دیگر پر مزید بات چیت کی ضرورت ہے۔
حماس نے بتایا کہ اس نے اپنی قیادت، فلسطینی دھڑوں، ثالثوں اور دوست ممالک کے ساتھ مشاورت کے بعد موقف طے کیا۔ تنظیم نے عرب، اسلامی اور بین الاقوامی کوششوں سمیت ٹرمپ کی ان کاوشوں کو سراہا جن کا مقصد جنگ بندی، قیدیوں کا تبادلہ، فوری امداد، قبضے کی مخالفت اور جبری انخلا کی روک تھام ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ تنظیم تمام اسرائیلی قیدیوں ... زندہ اور لاشیں دونوں ... کی رہائی پر تیار ہے، بشرطیکہ تبادلے کے لیے مناسب زمینی حالات فراہم کیے جائیں۔ مزید یہ کہ تنظیم تفصیلات طے کرنے کے لیے ثالثوں کے ذریعے فوری مذاکرات میں شریک ہونے پر آمادہ ہے۔ حماس کے مطابق وہ غزہ کے انتظامات ایک غیر جماعتی فلسطینی اتھارٹی کے سپرد کرنے پر بھی راضی ہے اور مستقبل کے معاملات قومی موقف اور بین الاقوامی قوانین کی روشنی میں جامع فلسطینی دائرہ عمل کے تحت طے کیے جائیں گے۔
-
خان یونس: اسرائیلی حملے کے بعد حماس اور ایک خاندان کے درمیان جھڑپیں، درجنوں اموات
حماس کے ساتھ جھڑپوں میں المجایدہ خاندان کے سات افراد مارے گئے ہیں: ذرائع، اسرائیلی ...
مشرق وسطی -
حماس ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی بعض شقوں پر آمادہ ، تنظیم مذاکرات کے لیے کوشاں
تنظیم نے غزہ کے انتظامات ایک آزاد فلسطینی اتھارٹی کے حوالے کرنے پر اپنی رضامندی کی ...
مشرق وسطی -
غزہ پر بمباری روکنے کے لیے اسرائیل کو ٹرمپ کی اپیل "حوصلہ افزا" ہے: حماس
حماس نے اپنی آمادگی ظاہر کی ہے کہ وہ فوراً قیدیوں کے تبادلے اور جنگ بندی کے لیے ...
بين الاقوامى