"کاغذی شیر " کی اصطلاح، ٹرمپ نے ماو زے تنگ کے مشہور جملے کو روس کے لیے کیوں دہرا دیا

روس پر طنز، چین کی یاد اور عالمی سیاست کی دلچسپ گونج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عالمی سیاست میں تاریخی حوالوں سے بھرے ایک دلچسپ لمحے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چند روز قبل روس کو " کاغذی شیر" (Paper Tiger) قرار دے کر سب کو چونکا دیا ۔ یہ وہی جملہ ہے جو کبھی چین کے انقلابی رہنما ماو زے تنگ نے کہا تھا۔

ٹرمپ کا یہ تبصرہ اس وقت سامنے آیا جب وہ روسی صدر ولادیمیر پوتین کی یوکرین جنگ کے حوالے سے مسلسل تاخیر اور غیر سنجیدگی پر برہم دکھائی دیے۔

جواب میں پوتین نے طنزیہ انداز اپناتے ہوئے کہا کہ "اگر روس کاغذی شیرہے، تو پھر نیٹو کیا ہے؟"

ماو زے تنگ کا تاریخی جملہ

یہ اصطلاح نئی نہیں۔ چین کے انقلابی لیڈر ماو زے تنگ نے 1946 ء میں امریکی صحافی آنا لوئز اسٹرونگ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں پہلی بار امریکی ایٹم بم کو " کاغذی شیر" قرار دیا تھا ۔ یعنی ایک ایسا خطرہ جو حقیقت میں محض دکھاوا ہو۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ماو کے مترجم نے اُس وقت چینی لفظ "ژِی لاؤہُو" کا ترجمہ " خوفناک" کے طور پر کیا، لیکن وہاں موجود ایک امریکی ڈاکٹر نے "Paper Tiger" کی تجویز دی جو ماو کو پسند آئی اور یوں یہ فقرہ عالمی سیاست کی زبان بن گیا۔

بعد ازاں یہ اصطلاح چین کی سرکاری لغت اور کمیونسٹ پارٹی کے بیانیے کا حصہ بن گئی، جہاں اسے مغربی طاقتوں خصوصاً امریکہ کے "امپیریل ازم" کے خلاف علامتی نعرے کے طور پر استعمال کیا گیا۔

ماو نے ایک بار کہا تھاکہ "تمام رجعت پسند کاغذی شیر ہیں" یہ جملہ اُس وقت چینی پروپیگنڈا کا مرکزی نکتہ بن گیا۔

سرد جنگ سے موجودہ دور تک

چینی مصنف لاو شی نے کوریا جنگ کے دوران امریکی افواج کو بھی " کاغذی شیر" کہا جس کے بعد یہ اصطلاح کمیونسٹ مفکرین کے لیے فکری ہتھیار بن گئی۔

تاہم جب 1970ء کی دہائی میں چین اور امریکہ کے تعلقات بہتر ہوئے تو یہ جملہ رفتہ رفتہ پس منظر میں چلا گیا، یہاں تک کہ گزشتہ برسوں میں بیجنگ اور واشنگٹن کے درمیان تجارتی اور سیاسی کشیدگی کے دوران دوبارہ سنائی دینے لگا۔

گذشتہ اپریل میں چینی وزارتِ خارجہ نے 1964ء کے ماو کے ایک قول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھاکہ "امریکہ کچھ ممالک کو ہم سے دور رکھنے کی کوشش کرتا ہے، مگر وہ محض کاغذی شیرہے۔ اس کی دھمکیوں پر یقین نہ کرو ۔ ایک دھکا دو اور وہ پھٹ جائے گا!"

جب ٹرمپ نے وہی اصطلاح دہرائی

روس پر تنقید کرتے ہوئے ٹرمپ نے یہی جملہ استعمال کیا ۔ انہوں نے روس کو "کاغذی شیر"قرار دیا۔ جسے امریکی ذرائع ابلاغ نے فوراً سیاسی طنز کا عنوان بنا دیا۔

دلچسپ طور پر چند ماہ قبل واشنگٹن پوسٹ کے کالم نگار یوجین روبنسن نے خود ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کو " کاغذی شیر" قرار دیا تھا، جب کہ ہارورڈ یونیورسٹی کے قانون دان لارنس ٹرائب نے بھی انہیں یہی لقب دے کر غیر ملکی طلبہ کو تسلی دینے کی کوشش کی تھی۔

"شی جِن پِنگ تماشائی بنے بیٹھے ہیں"

چینی مؤرخ جون ڈی لوری نے تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ "ایک چینی مؤرخ کی حیثیت سے میں ہنسے بغیر نہیں رہ سکا کہ ٹرمپ نے ماو زے تنگ کے پسندیدہ جملے کو روس پر چسپاں کر دیا۔ ماو نے یہ بات اُس وقت کہی تھی جب امریکہ کے پاس ایٹمی طاقت تھی اور چین ابھی کمزور تھا۔ اب زمانہ پلٹ گیا ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "آج امریکا اور روس ایک دوسرے کو طعنوں سے نواز رہے ہیں، جبکہ چینی صدر شی جِن پِنگ خاموش بیٹھے تماشا دیکھ رہے ہیں۔ جیسے وہ کمرے میں موجود واحد سنجیدہ شخص ہوں"۔

واضح رہے کہ ٹرمپ نے گذشتہ ہفتے روس کی عسکری کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ "روس دراصل کاغذی شیر ہے"، جس پر پوتین نے جواب دیا: "ہم نیٹو کے پورے اتحاد سے لڑ رہے ہیں اور مسلسل آگے بڑھ رہے ہیں۔ اگر ہم کاغذی شیر ہیں، تو نیٹو کیا ہے؟ آؤ اور اس کاغذی شیر کا سامنا کرو!"

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں