یوکرین کے سرکاری گیس گرڈ آپریٹر نفتوگاز نے جمعہ کو اعلان کیا کہ روس نے 2022 میں روسی فوجی آپریشن کے آغاز کے بعد سے ملک کی گیس کی پیداواری تنصیبات پر راتوں رات "سب سے بڑا حملہ" کردیا ہے۔ اس حملے میں 35 میزائل اور 60 ڈرون استعمال کیے گئے۔ روسی فوج نے رات کے وقت حملوں کی ایک سیریز میں بار بار یوکرین کے بجلی کے گرڈ کو نشانہ بنایا۔ بجلی کی بندش سے بعض اوقات لاکھوں افراد اندھیرے میں ڈوب گئے ۔ درجہ حرارت صفر سے نیچے گرنے پر ہیٹنگ سپلائیز کو کاٹ دیا گیا۔
یوکرین کی سرکاری گیس کمپنی نفتوگاز نے ایک بیان میں کہا کہ راتوں رات دشمن نے جنگ کے آغاز کے بعد سے گیس کی پیداوار کے بنیادی ڈھانچے پر سب سے بڑا حملہ کیا ہے۔ یوکرین کی وزیر اعظم یولیا سویریڈینکو نے ٹیلی گرام کے ذریعے روس پر الزام لگایا کہ وہ شہریوں کو دہشت زدہ کر رہا ہے اور انہیں سخت سردی میں گرم کرنے کی ڈیوائسز سے محروم کرنا چاہتا ہے۔
نجی آپریٹر نافتو گاز اور ڈی ٹی ای کے کے مطابق روسی حملے نے خارکیف (شمال مشرقی) اور پولٹاوا (وسطی) علاقوں میں گیس کی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ نافتو گاز کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین سرہی کوریٹسکی نے شہری تنصیبات کے خلاف ماسکو کی جان بوجھ کر دہشت گردی کی مذمت کی اور کہا اس حملے کے نتیجے میں ہماری تنصیبات کے ایک اہم حصے کو نقصان پہنچا اور کچھ نقصان شدید نوعیت کا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملے فوجی طور پر بے معنی ہیں اور ان کا مقصد صرف اور صرف ہمیں سردیوں میں یوکرین کے گھروں کو گرم کرنے کی صلاحیت سے محروم کرنا ہے۔
یوکرین کی فضائیہ کے مطابق روس نے راتوں رات یوکرین میں 381 ڈرونز اور 35 میزائل داغے جس میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔ اسی ذریعے نے اطلاع دی کہ 18 میزائل اور 78 ڈرونز نے اہداف کو نشانہ بنایا اور دیگر میزائلوں اور ڈرونز کو روک لیا گیا۔ روسی فوج نے کہا ہے کہ اس نے یوکرین کے ملٹری- صنعتی کمپلیکس اور گیس اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے جو اس کے آپریشنز کو سپورٹ کرتا ہے پر اعلی درستی والے ہتھیاروں سے بڑے حملے کیے ہیں۔
یوکرین کی بجلی کی وزارت نے کئی علاقوں میں بجلی کی بندش کی اطلاع دی۔ یوکرین میں بجلی کی بندش اب 2022-2023 کے موسم سرما کے مقابلے میں کم عام ہے۔ اس وقت روسی حملوں کی وجہ سے ملک بھر میں بڑے پیمانے پر بلیک آؤٹ ہوگیا تھا۔ 2024 میں بین الاقوامی فوجداری عدالت نے پاور گرڈ پر حملوں کے بعد جنگی جرائم کے الزام میں سابق روسی وزیر دفاع اور روسی فوج کے کمانڈر کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔ یوکرین نے بھی روسی آئل ریفائنریوں پر طویل فاصلے تک جوابی ڈرون حملے کیے جس سے توانائی کی اہم آمدنی میں کمی کی کوشش کی گئی جس کا کہنا ہے کہ ماسکو کی فوج کو فنڈز فراہم کرتے ہیں۔
یوکرین کی سکیورٹی سروس کے ایک ذریعے نے اے ایف پی کو بتایا کہ کیف نے قازقستان کے قریب روس کے علاقے اورینبرگ میں سامنے سے تقریباً 1400 کلومیٹر دور ایک ریفائنری کو نشانہ بنایا۔ سوشل میڈیا پر غیر مصدقہ ویڈیوز میں دکھایا گیا ہے کہ ایک ڈرون ایک ریفائنری سے ٹکرا رہا ہے۔ اس سے آسمان میں سرمئی دھوئیں کا ایک کالم نکل رہا ہے۔
خطے کے روسی گورنر نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ایک ڈرون نے صنعتی تنصیب کو نشانہ بنایا۔ یوکرین کی ایمرجنسی سروسز نے جمعہ کو اعلان کیا ہے کہ روسی ڈرون حملے نے شمال مشرقی یوکرین میں ایک فارم میں رات بھر آگ بھڑکتی رہی اور اس حملے سے 13000 کے قریب خنزیر ہلاک ہوگئے۔ اس حملے میں خار کیف کے علاقے کے نوودولازکا گاؤں میں ایک فارم کو نشانہ بنایا گیا۔ حملے میں ایک فارم ورکر بھی زخمی ہوا۔