ایران کو ایٹمی ہتھیار رکھنے یا بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی:یورپی یونین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپی کمیشن کے ترجمان انور العنونی نے واضح کیا ہے کہ یورپی یونین کی خارجہ و سکیورٹی پالیسی کی سربراہ کایا کالاس ایرانی جوہری معاملے سے متعلق تمام فریقوں، بشمول ایران، کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ یورپی یونین کا مؤقف بالکل واضح ہے کہ ایران نہ ایٹمی ہتھیار رکھ سکتا ہے اور نہ ہی انہیں تیار کر سکتا ہے۔

انور العنونی نے پیر کے روز العربیہ اور الحدث سے گفتگو میں کہا کہ یورپی یونین کا مؤقف غیر مبہم ہے ۔ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے یا رکھنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے اور اسے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے تحت اپنی قانونی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایران بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ساتھ مکمل اور بلا تاخیر تعاون کرے۔

ترجمان نے یہ بھی کہا کہ یورپی یونین کا یقین ہے کہ اس معاملے کا حل صرف مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ یونین اس سمت میں اپنی کوششیں جاری رکھے گی اور تمام فریقوں، بشمول ایران، کے ساتھ رابطے میں رہے گی تاکہ سلامتی کونسل کی بحال شدہ قراردادوں کے مطابق ایک مذاکراتی حل نکالا جا سکے۔

دوسری جانب ایران کے صدر مسعود بزیشکیان نے اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک اپنی جوہری تنصیبات کو “مزید طاقت کے ساتھ” دوبارہ تعمیر کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ “ہمارے سائنس دانوں کے ذہنوں میں علم محفوظ ہے، عمارتوں کی تباہی ہمیں نہیں روک سکتی”.

انہوں نے گذشتہ روز تہران میں ایٹمی توانائی تنظیم کے صدر دفتر کے دورے کے موقع پر کہا کہ ایران ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کر رہا۔ ان کے مطابق جوہری صنعت کی توسیع کا مقصد عوام کی خدمت اور قومی خوشحالی میں بہتری ہے، نہ کہ ہتھیار بنانا"۔

ایرانی حکام طویل عرصے سے یہ دعویٰ کرتے آئے ہیں کہ ان کا جوہری پروگرام پُرامن اور صرف سول مقاصد کے لیے ہے۔

تاہم بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی نے اس سے قبل تصدیق کی تھی کہ ایران میں یورینیم کی افزودگی 60 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جو ایٹمی ہتھیار بنانے کے قریب ترین سطح ہے۔

ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافائل گروسی نے پچھلے بدھ کو ایسوشی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ فی الحال ایران میں یورینیم کی مزید افزودگی نظر نہیں آ رہی، البتہ حالیہ ہفتوں میں ایرانی جوہری مراکز میں دوبارہ سرگرمیاں دیکھی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ ایجنسی کے معائنہ کار ایرانی جوہری مقامات تک رسائی حاصل نہیں کر سکے، لیکن سیٹلائٹ تصاویر سے کوئی ایسا اشارہ نہیں ملا کہ ایران نے افزودہ یورینیم کی پیداوار میں تیزی لائی ہو، جیسا کہ اسرائیل کے ساتھ جون میں ہونے والی 12 روزہ جنگ سے پہلے کی صورتحال تھی۔ ایجنسی کے مطابق، ایران میں موجود 60 فیصد افزودہ یورینیم کا حتمی انجام تاحال نامعلوم ہے۔

یاد رہے کہ ایران کے اندر ہونے والے اسرائیلی فضائی حملے اور گزشتہ موسمِ گرما میں امریکی کارروائیاں نطنز اور فوردو سمیت اہم جوہری تنصیبات کو نشانہ بناتی رہی ہیں، تاہم ان نقصانات کی حقیقی حد اب تک سامنے نہیں آ سکی۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں