ایران مذاکرات سے نہیں انکاری نہیں مگر پیشگی شرائط قبول نہیں کرے گا:علی لاریجانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایرانی حکومت کی جانب سے امریکہ کی طرف سے جوہری مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی دعوت موصول ہونے کے بعدایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی نے واضح کیا ہے کہ تہران مذاکرات سے انکاری نہیں، تاہم کسی بھی پیشگی شرط کو تسلیم نہیں کرے گا۔

اپنے ایک بیان میں علی لاریجانی نے کہا کہ "ہم نے کبھی نہیں کہا کہ ہم بات چیت نہیں کریں گے۔ رہبرِ اعلیٰ نے ہمیشہ ہمیں مذاکرات کے آداب اور طریقۂ کار سے واقف رہنے کی ہدایت کی ہے، لیکن مذاکرات حقیقی ہونے چاہئیں"۔

انہوں نے زور دیا کہ ایران پر کسی بھی قسم کی پیشگی شرائط مسلط نہیں کی جا سکتیں۔ یہ بات ایرانی میڈیا نے لاریجانی کے حوالے سے رپورٹ کی۔

اقتصادی اصلاحات کی ضرورت

علی لاریجانی نے مزید کہا کہ "مخالفین کو بغیر کسی شرط کے رعایت پر آمادہ نہیں کیا جا سکتا۔ دوسروں کے نقطۂ نظر کو بدلنے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ قومی اتحاد کو مضبوط کیا جائے اور اقتصادی اصلاحات کے ذریعے عوام کی زندگیوں میں استحکام واپس لایا جائے"۔

انہوں نے امریکی نمائندے ٹام بریک کے بحرین میں منعقدہ منامہ کانفرنس میں دیے گئے بیان پر بھی ردعمل ظاہر کیا، جس میں بریک نے خطے میں "بڑی تبدیلیوں" کی بات کی تھی۔ لاریجانی کے مطابق "ٹام بریک نے بعض ممالک کو مذاکراتی ٹرین پر سوار ہونے کا مشورہ دیتے ہوئے دراصل ایک طرح کا دھمکی آمیز پیغام دیا ہے"۔

انہوں نے کہا کہ "بریک نے کہا یہ آخری موقع ہے یا تو ہماری بات سنو یا پھر آزاد ہو جاؤ"۔ لاریجانی کے بہ قول "اس جملے کا مطلب صاف ہے یعنی اگر بات نہ مانی تو اسرائیل کو تم پر حملے کی اجازت دی جائے گی"۔

غیر معقول مطالبات

گذشتہ ہفتے علی لاریجانی نے انکشاف کیا تھا کہ ایران، امریکہ اور یورپی ممالک (فرانس، جرمنی اور برطانیہ) کے درمیان ستمبر میں ہونے والے مذاکرات اس لیے ناکام ہوئے کیونکہ مغربی فریق ایران سے اپنے میزائلوں کی حد 500 کلومیٹر سے کم کرنے کا مطالبہ کر رہا تھا۔

انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی "طاقت کے ذریعے امن حاصل کرنے" کی پالیسی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی اس مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا تھا کہ "جب تک امریکہ غیر معقول اور حد سے بڑھے ہوئے مطالبات کرتا رہے گا، ایران مذاکرات کی میز پر واپس نہیں آئے گا"۔

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان اب تک پانچ بالواسطہ جوہری مذاکراتی دور ہو چکے ہیں۔ چھٹے دور کی تیاری جاری تھی کہ جون میں اسرائیل نے اچانک 12 روزہ فضائی جنگ شروع کر دی، جس میں امریکہ نے بھی حصہ لیتے ہوئے ایران کی کئی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا۔

بعد ازاں اگست کے آخر میں یورپی "ٹرائیکا" ’ فرانس، جرمنی اور برطانیہ‘ نے "سنپ بیک" میکانزم فعال کیا جس کے تحت سلامتی کونسل نے ایران پر دوبارہ اقوامِ متحدہ کی پابندیاں عائد کر دیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں