زہران ممدانی – 5 نومبر (روئٹرز)

"فرار کی منصوبہ بندی"... کیا واقعی ممدانی کی جیت نے نیویارک کے امیروں کو پریشان کر دیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کاری، آمدن اور مستقبل کے بارے میں حکمتِ عملی طے کر سکیں۔ یہاں تک کہ کچھ لوگ شہر چھوڑنے پر بھی غور کر رہے ہیں۔

ایک مالیاتی کمپنی مورگن اسٹینلی کے مشیر نے بتایا کہ فلوریڈا اور کونیٹی کٹ دولت مندوں کے لیے ممکنہ متبادل مقامات ہیں، تاہم ہر کسی کے لیے منتقل ہونا آسان نہیں۔ فلوریڈا میں ٹیکس کم ہیں لیکن وہاں کا گرم موسم سب کو پسند نہیں آتا، جبکہ کونیٹی کٹ میں رہائش کے مواقع محدود اور قیمتیں زیادہ ہیں۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

تشویش کی بنیادی وجہ ممدانی کی بائیں بازو کی نظریاتی پالیسیوں کو قرار دیا جا رہا ہے۔ ان کے بارے میں خیال ہے کہ وہ امیروں پر "ملینیئر ٹیکس" عائد کر کے سماجی بہبود کے منصوبے مثلا سستا کھانا، مفت نقل و حمل اور کرایہ منجمد کرنا ... شروع کرنا چاہتے ہیں۔ ناقدین کے مطابق یہ اقدامات سرمایہ کاروں اور کاروباری طبقے کو بد ظن کر سکتے ہیں، جس سے جائیداد کی قیمتوں اور معیارِ زندگی پر منفی اثر پڑنے کا خدشہ ہے۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

دوسری طرف کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ ممدانی چونکہ سیاست میں نئے ہیں، اس لیے ریاستی حکومت اور نیویارک کی معتدل قانون سازی، ان کے سخت پالیسی ایجنڈے کو عملی جامہ پہنانے سے روک سکتی ہے۔ تاہم دیگر مبصرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر ممدانی کو مقامی کونسل کی حمایت مل گئی تو وہ بآسانی اپنے اصلاحی منصوبے آگے بڑھا سکتے ہیں۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں