چین کے طاقتور ترین جنرل کا زوال… ژانگ یو شیا کون ہیں؟
بیجنگ کے ایوانِ اقتدار کے اندر مہینوں سے گردش کرنے والی افواہوں اور سرگوشیوں کے بعد بالآخر چین کی عسکری قیادت کے طاقتور ترین چہروں میں سے ایک کی برطرفی کی خبر منظرِ عام پر آ گئی، جس نے نظام کے اندر طاقت کے توازن کو نئے سرے سے ترتیب دے دیا ہے۔
جنرل ژانگ یو شیا جو مرکزی فوجی کمیشن میں سب سے اعلیٰ رتبے کے افسر تھے، کو باضابطہ طور پر ’’سنگین نظم و ضبط اور قانونی خلاف ورزیوں کے شبہے‘‘ میں تحقیقات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ان کے ساتھ ان کے ایک قریبی معاون کو بھی شاملِ تفتیش کیا گیا ہے، یہ بات برطانوی اخبار دی سنڈے ٹائمز کی رپورٹ میں سامنے آئی۔
ژانگ یو شیا کو چینی فوج کی سب سے بااثر شخصیات میں شمار کیا جاتا تھا۔ وہ مرکزی فوجی کمیشن کے نائب چیئرمین کے عہدے پر فائز رہے، جو چین کی مسلح افواج کی نگران اعلیٰ ترین اتھارٹی ہے، جس سے بالا صرف کمیونسٹ پارٹی کی قیادت سمجھی جاتی ہے۔
پارٹی کے شہزادے
ژانگ یو شیا کا تعلق ان شخصیات سے ہے جنہیں چین میں ’’پارٹی کے شہزادے‘‘ کہا جاتا ہے، یعنی وہ افراد جو انقلابی قیادت کے خاندانوں میں پیدا ہوئے اور ماو زے تنگ کے دور سے نظام کے اندر پروان چڑھے۔وہ ممتاز جنرل ژانگ تسونگ شون کے بیٹے ہیں، جو سرخ فوج کے کمانڈروں میں شامل تھے۔ ژانگ کا تعلق بھی اسی شنشی صوبے سے ہے ،جہاں سے صدر شی جن پنگ کے والد کا تعلق رہا، اور کہا جاتا ہے کہ دونوں خاندانوں کے درمیان تعلقات بچپن سے چلے آ رہے تھے۔ اسی قربت کے باعث ژانگ کو طویل عرصے تک شی جن پنگ کا فطری عسکری اتحادی سمجھا جاتا رہا۔تاہم وقت کے ساتھ یہی قربت شکوک میں بدل گئی۔ گزشتہ ایک برس کے دوران بیجنگ میں یہ افواہیں زور پکڑتی رہیں کہ صدر شی اور ان کے سینئر عسکری نائب کے درمیان اثر و رسوخ کی کشمکش جاری ہے، خاص طور پر اس لیے کہ ژانگ وہ واحد اعلیٰ فوجی رہنما تھے ،جن کے عروج کو مکمل طور پر شی جن پنگ کی براہِ راست سرپرستی سے منسوب نہیں کیا جاتا تھا۔
فوجی بغاوت کی افواہیں
یہ قیاس آرائیاں اس حد تک جا پہنچیں کہ بیرونِ ملک موجود بعض مخالفین نے خفیہ فوجی بغاوت اور صدر کو پس منظر میں دھکیلنے کی باتیں بھی کیں، اگرچہ ان دعوؤں کی کسی سرکاری ذریعے نے تصدیق نہیں کی۔لیکن بعد کے واقعات نے ایک مختلف تصویر پیش کی۔
صدر شی جن پنگ نے بتدریج فوج کے کئی سینئر کمانڈروں کو ان کے عہدوں سے ہٹانا شروع کیا اور بالآخر یہ عمل جنرل ژانگ یو شیا تک جا پہنچا۔
اطلاعات کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان اختلافات میں ایک حساس معاملہ تائیوان سے متعلق پالیسی بھی شامل تھا۔ ژانگ یو شیا، جنہوں نے 1970 کی دہائی کے آخر میں چین ویتنام جنگ میں عملی طور پر حصہ لیا تھا، کسی بڑی عسکری محاذ آرائی کے حوالے سے نسبتاً محتاط سوچ رکھتے تھے، جو قیادت کے بعض سخت گیر حلقوں سے مختلف تھی۔
تطہیر کی مہم اور تاریخی بازگشت
ژانگ یو شیا کا زوال چینی سیاسی تاریخ کی تلخ یادوں کو تازہ کرتا ہے، خاص طور پر مارشل لن بیاو کا انجام جو ماو زے تنگ کے ممکنہ جانشین سمجھے جاتے تھے اور 1971 میں اچانک غائب ہو گئے، ان پر ایک مبہم فوجی بغاوت کی کوشش کا الزام لگا تھا، جس کی تفصیلات آج تک بحث کا موضوع ہیں۔ژانگ کی برطرفی کے ساتھ ہی یہ واضح ہو گیا ہے کہ تطہیر کی مہم اب مرکزی فوجی کمیشن کی قیادت تک پہنچ چکی ہے۔ گزشتہ برسوں میں درجنوں جرنیل اس مہم کی زد میں آ چکے ہیں، جن میں موجودہ اور سابق وزرائے دفاع بھی شامل ہیں۔اب عسکری طاقت کے اس بلند ترین ہرم میں صدر شی جن پنگ کے سوا صرف ایک رکن باقی رہ گیا ہے، جسے حال ہی میں ’’اندرونی نظم و ضبط‘‘ کی نگرانی کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔