دارچینی، ادرک اور ہلدی شامل ہیں، سردیوں کے 7 مصالحے جو ذیابیطس پر کنٹرول میں مدد دیتے ہیں
رمضان کی آمد کے ساتھ ہی دسترخوان پر طرح طرح کے خوش ذائقہ پکوان سجنے لگتے ہیں، مگر اسی کے ساتھ بہت سے لوگوں کے لیے خون میں شوگر کو قابو میں رکھنا ایک سنجیدہ آزمائش بن جاتا ہے، خاص طور پر ذیابیطس کے مریضوں اور اُن افراد کے لیے جو اس مرض کے خطرے سے دوچار ہوں۔ اچھی خبر یہ ہے کہ شوگر پر قابو پانے کا مطلب ذائقوں سے سمجھوتا کرنا نہیں، کیونکہ ہماری روزمرہ باورچی خانے میں موجود بعض عام مصالحے نہ صرف کھانوں کا ذائقہ نکھارتے ہیں بلکہ میٹابولزم کی صحت کو سہارا دے کر شوگر کے توازن میں بھی مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
ویری ویل ہیلتھ (VeryWellHealth) کی ایک صحت رپورٹ کے مطابق سردیوں کے کھانوں میں روایتی طور پر استعمال ہونے والے کئی مصالحے اگر متوازن غذائی نظام کے تحت استعمال کیے جائیں، تو جسم میں انسولین کے ردِعمل کو بہتر بنانے اور خون میں گلوکوز کی سطح کو مستحکم رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
دارچینی
دارچینی اُن مصالحوں میں سرفہرست ہے ،جو خون میں شوگر کو منظم کرنے سے جوڑے جاتے ہیں۔ یہ قدرتی طور پر میٹھا ذائقہ دیتی ہے، جس سے اضافی چینی کی ضرورت کم ہو جاتی ہے۔ مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ دارچینی کا استعمال انسولین کی حساسیت بہتر بنا سکتا ہے اور فاسٹنگ شوگر کو مستحکم رکھنے میں مدد دے سکتا ہے، جبکہ طویل المدتی اشاریے جیسے HbA1c میں بھی بہتری دیکھی گئی ہے، جو ٹائپ ٹو ذیابیطس سے وابستہ ہوتا ہے۔
ادرک
ادرک اپنی تیز اور گرم تاثیر کے باعث نمکین پکوانوں میں وسیع پیمانے پر استعمال ہوتی ہے۔ کچھ تحقیقات کے مطابق یہ معمولی حد تک شوگر کم کرنے اور میٹابولک اشاریوں کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہے، تاہم نتائج یکساں نہیں۔
ماہرین ضرورت سے زیادہ استعمال خاص طور پر سپلیمنٹس کی صورت میں سے احتیاط کا مشورہ دیتے ہیں کیونکہ یہ شوگر کم کرنے والی ادویات کے ساتھ تداخل کر سکتی ہے۔
ہلدی
ہلدی میں موجود کرکیومن ایک طاقتور اینٹی آکسیڈنٹ ہے، جسے متعدد مطالعات میں فاسٹنگ شوگر میں کمی اور خلیوں کی انسولین کے لیے حساسیت بڑھانے سے منسلک کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بلند شوگر سے جڑی سوزش کو کم کرنے میں بھی کردار ادا کرتی ہے۔
کلونجی
کلونجی مشرقِ وسطیٰ اور برصغیر کے باورچی خانوں میں عام ہے۔ انسانی اور حیوانی تجربات میں اس کے ذریعے گلوکوز اور HbA1c کی سطح میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ انسولین مزاحمت کم کرنے اور خلیوں میں شوگر کے جذب کو بہتر بنانے میں مدد دیتی ہے، اگرچہ بعض نتائج کی مزید انسانی توثیق درکار ہے۔
زعفران
زعفران اپنی منفرد خوشبو اور گہرے رنگ کے لیے جانا جاتا ہے۔ کلینیکل تجربات میں ٹائپ ٹو ذیابیطس کے مریضوں میں مقررہ مقدار میں زعفران کے استعمال سے فاسٹنگ شوگر میں کمی اور میٹابولک کنٹرول سے جڑی سوزش کے اشاریوں میں بہتری دیکھی گئی ہے۔
جائفل
جائفل عموماً میٹھے اور بیکری آئٹمز میں استعمال ہوتی ہے۔ حیوانی مطالعات اشارہ دیتی ہیں کہ یہ شوگر کی سطح کم کرنے اور انسولین سے متعلق اشاریوں کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ آکسیڈیٹو تناؤ گھٹانے میں مدد دے سکتی ہے، تاہم انسانی شواہد تاحال محدود ہیں۔
لونگ
لونگ اپنے مضبوط ذائقے کے لیے مشہور ہے۔ ایک چھوٹی تحقیق میں اس کے سپلیمنٹس نے صحت مند افراد اور پری ڈایابیٹک لوگوں میں کھانے کے بعد شوگر کم کرنے میں مدد دکھائی۔ لیبارٹری تجربات یہ بھی بتاتے ہیں کہ لونگ کاربوہائیڈریٹس کے جذب کو سست کر سکتی ہے۔
یہ مصالحے اگر اعتدال کے ساتھ اور صحت مند غذائی طرزِ زندگی کے ضمن میں استعمال کیے جائیں تو سردیوں کے کھانوں میں ذائقہ بڑھانے کے ساتھ خون میں شوگر کے بہتر کنٹرول میں مدد دے سکتے ہیں۔ تاہم یہ طبی علاج یا ماہر غذائیت کی ہدایات کا متبادل نہیں۔