مستقبل کی کرسی جو لمحوں میں دماغی کیفیت بدل دے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تصور کیجیے کہ آپ ایک ایسی کرسی پر بیٹھیں جہاں بیٹھنے کا احساس ہی ختم ہو جائے، جسم کا وزن گویا تحلیل ہو جائے اور ذہن ہلکے پن کی ایسی کیفیت میں داخل ہو جائے جیسے آپ لمحاتی طور پر کششِ ثقل سے آزاد ہو گئے ہوں۔ یہ خیال کسی سائنسی فلم کا منظر نہیں، بلکہ ایک نئی حقیقت ہے۔

اگر آپ کو بتایا جائے کہ ایک کرسی چند ہی لمحوں میں جسمانی بوجھ کے احساس کو مٹا کر ذہن کو ہلکے پن اور طفو جیسی کیفیت میں لے جا سکتی ہے تو شاید آپ اسے تخیل سمجھیں، مگر جدید ٹیکنالوجی اب اس تصور کو حقیقت میں بدلنے جا رہی ہے۔

ایسی کرسی جس پر بیٹھتے ہی جسم کی موجودگی دھندلا جائے، وزن کا احساس کم ہو جائے اور ذہن ایک منفرد، ہلکی اور مختلف حالت میں چلا جائے،یہ کوئی خیالی منظر نہیں بلکہ ایک نئی ایجاد ہے جو بیٹھنے کے روایتی تصور کو بدلنے کا دعویٰ کر رہی ہے۔


کرسی "ایورا" کیسے کام کرتی ہے؟

کرسی "ایورا" اس طرح ڈیزائن کی گئی ہے کہ بیٹھنے کے دوران کششِ ثقل اور رگڑ کے احساس کو کم سے کم سطح تک لے آئے۔ اس کے تمام حصے جن میں ہیڈ ریسٹ، بازو رکھنے کی جگہ پشت کا سہارا اور نشست شامل ہیں، الگ الگ افقی راستوں پر حرکت کرتے ہیں۔

اس بنا پر یہ روایتی ہلنے والی کرسیوں کے برعکس کششِ ثقل کے براہِ راست اثر میں نہیں رہتے۔اسی دوران انتہائی ہموار بیئرنگز رگڑ اور مزاحمت کو نہایت کم کر دیتی ہیں، جس کے باعث کرسی جسم کی فطری حرکات کے ساتھ پوری روانی سے ہم آہنگ ہو جاتی ہے۔
کرسی کے ڈیزائنر ڈاکٹر ڈیوڈ وکٹ کے مطابق یہ نظام غیر معمولی حد تک حساس ہے، یہاں تک کہ محض سانس لینے کی حرکت بھی پورے جسم کو ہلکا سا اوپر اٹھانے کے لیے کافی ہو سکتی ہے۔

تیرنے کا احساس، نہ کہ بیٹھنے کا

اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بیٹھنے والے شخص کو جسم کے کسی ایک حصے پر دباؤ محسوس نہیں ہوتا، بلکہ ایک ایسا احساس جنم لیتا ہے جو ہوا میں تیرنے سے مشابہ ہوتا ہے۔یہ کیفیت عام کرسی پر بیٹھنے کے تجربے سے بالکل مختلف ہے، اسی لیے اکثر صارفین کو چند منٹ درکار ہوتے ہیں تاکہ وہ حرکت کو قابو میں رکھنے کے بجائے خود کو اس کے حوالے کرنا سیکھ سکیں۔

ڈاکٹر وکٹ کے مطابق آنکھیں بند کرنے سے یہ تجربہ مزید گہرا ہو جاتا ہے، جہاں بہت سے افراد بیان کرتے ہیں کہ انہیں لامحدود خلا میں ہونے کا احساس ہوتا ہے، حرکت کے سراب پیدا ہوتے ہیں اور ذہن ایک ایسی کیفیت میں داخل ہو جاتا ہے جہاں خیالات تقریباً ختم ہو جاتے ہیں۔

اثر جو جسمانی آرام سے آگے بڑھتا ہے

دلچسپ بات یہ ہے کہ "ایورا" کا تجربہ صرف جسمانی سکون تک محدود نہیں رہتا، بلکہ اس کا اثر دماغی سرگرمی پر بھی واضح طور پر دیکھا گیا ہے۔

یونیورسٹی آف ایسیکس کے ایک تحقیقی گروپ نے مشاہدہ کیا کہ کرسی پر بیٹھنے والے افراد محض پانچ سے دس منٹ کے اندر ایک ایسی کیفیت میں داخل ہو جاتے ہیں جسے "غیر معمولی حالتِ شعور" کہا جاتا ہے۔

نتائج کے مطابق دماغی لہروں کی سست سرگرمی میں بتدریج اضافہ دیکھا گیا، خاص طور پر دائیں فرنٹل حصے میں جو اعصابی کنٹرول سے منسلک ہے، اس کے علاوہ فرنٹل-سینٹرل کارٹیکس میں بھی سرگرمی بڑھی جو توجہ اور ارتکاز سے متعلق ہوتا ہے۔


گہرے مراقبے جیسی کیفیت

محققین کی خاص توجہ دماغی لہروں کی ایک مخصوص قسم پر مرکوز ہے جسے "فرنٹل مڈلائن تھیٹا" کہا جاتا ہے۔ یہ اعصابی پیٹرن بہت حد تک اُن لوگوں میں دیکھا جاتا ہے جو طویل عرصے سے مراقبے کی مشق کرتے ہیں۔

اگرچہ ان نتائج پر مبنی سائنسی تحقیق ابھی تک حتمی شکل میں شائع نہیں ہوئی، تاہم موجودہ تشریح کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ کرسی دماغ تک پہنچنے والی حسی معلومات کو کم کر دیتی ہے، جس کے نتیجے میں توجہ بیرونی دنیا سے ہٹ کر اندرونی احساسات کی جانب منتقل ہو جاتی ہے۔

فلوٹنگ ٹینکس سے مماثلت

اگر یہ تشریح درست ثابت ہوئی، تو کرسی "ایورا" کا اثر حسی تنہائی کے کمروں یا فلوٹنگ ٹینکس سے ملتا جلتا ہو گا۔ ان ٹینکس میں انتہائی نمکین پانی کے ذریعے جسم کو متوازن حالت میں تیرنے دیا جاتا ہے، جس سے کششِ ثقل کا دباؤ ختم ہو جاتا ہے۔مکمل اندھیرا اور آواز سے علیحدگی دماغ تک پہنچنے والی حسی معلومات کو نمایاں حد تک کم کر دیتی ہے۔ سابقہ مطالعات سے یہ بات سامنے آ چکی ہے کہ اس کیفیت میں وقت گزارنے سے گہرے مراقبہ جیسی دماغی حالت پیدا ہوتی ہے اور بلڈ پریشر میں بھی واضح کمی واقع ہوتی ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں