ایک شہری کے لیے… برطانیہ نے یونان کو کیسے گھیر لیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 7 منٹ

بحری محاصرہ ہمیشہ کسی ہمہ گیر جنگ کا پیش خیمہ نہیں رہا۔ یورپ کی نمایاں سفارتی کشیدگیوں میں سے ایک میں ایک ہی شہری پر ہونے والا حملہ ایسا وسیع عسکری اقدام بن گیا، جس نے ایک پوری ریاست کی نقل و حرکت مفلوج کر کے رکھ دی۔بحری بیڑے سیاسی دباؤ اور بین الاقوامی مداخلتوں نے ایک ایسا غیر معمولی منظرنامہ تشکیل دیا جو بظاہر اتحادی تعلقات کے منافی تھا۔

یہ واقعہ اس بات کی واضح مثال بن گیا کہ کس طرح سفارت کاری توپوں کے دہانوں سے بھی کی جا سکتی ہے۔21 اکتوبر 1805 کو یورپی براعظم نے جدید تاریخ کی اہم ترین بحری لڑائیوں میں سے ایک کا سامنا کیا۔اسی روز برطانوی بحری بیڑے نے ایڈمرل ہوریشیو نیلسن کی قیادت میں فرانس اور اسپین کے مشترکہ بحری بیڑے کا کیپ ٹرافلگر کے قریب مقابلہ کیا۔

اس معرکے کے نتیجے میں برطانوی بحریہ نے اپنے مخالفین کو بری طرح کچل دیا۔ فرانسیسی اسپانوی اتحاد کو 18 بحری جہازوں کا نقصان اٹھانا پڑا، جبکہ دس ہزار سے زائد افراد ہلاک، زخمی یا گرفتار ہوئے۔

اس جنگ کے بعد برطانوی بحریہ نے سمندروں اور بحروں پر اپنی بالادستی قائم کر لی اور دوسری عالمی جنگ تک دنیا کی سب سے طاقتور بحری قوت کے طور پر پہچانی جاتی رہی۔

برتری کے اس دور میں برطانیہ نے اپنے سیاسی اور معاشی مطالبات منوانے کے لیے جس حکمتِ عملی کو اختیار کیا، وہ بحری توپوں کی سفارت کاری کے نام سے معروف ہوئی، چاہے اس کا سامنا اتحادی ممالک ہی کو کیوں نہ کرنا پڑا۔مشکل آزادی اور بڑھتے ہوئے بحراناسی پس منظر میں یونان اُن ممالک میں شامل تھا جو بعد میں برطانوی دباؤ کا نشانہ بنے۔

1830 میں یونان نے سلطنتِ عثمانیہ کے خلاف طویل جدوجہد کے بعد برطانیہ، فرانس اور روس کی حمایت سے باضابطہ آزادی حاصل کی۔تاہم آزادی استحکام کی ضمانت نہ بن سکی۔ ملک جلد ہی شدید معاشی کمزوری، بڑھتے مالی خسارے اور بھاری قرضوں کے بوجھ تلے دب گیا۔

سیاسی طور پر بھی حالات تسلی بخش نہ تھے۔ خاص طور پر اس وقت جب باویریا کے شہزادے اوٹو کو یونان کا بادشاہ مقرر کیا گیا۔ چونکہ وہ رومن کیتھولک مذہب سے تعلق رکھتا تھا، اس لیے ایک ایسے ملک میں اسے شدید عوامی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا جہاں اکثریت آرتھوڈوکس عیسائیوں کی تھی۔

مذہبی رسومات سے جنم لینے والا سیاسی بحران

وقت کے ساتھ یونان اور اس کی سابق اتحادی برطانیہ کے درمیان ایک نیا تنازع کھڑا ہو گیا، جس کی بنیاد برطانوی نژاد یہودی شہری ڈیوڈ پاسفیکو کا مقدمہ تھا، جو ڈان پاسفیکو کے نام سے بھی جانا جاتا تھا۔وہ کچھ عرصے تک یونان میں پرتگالی قونصل کے طور پر خدمات انجام دیتا رہا اور پرتگالی شہریت کے ساتھ ساتھ برطانوی شہری بھی شمار ہوتا تھا۔

منصب سے برطرفی کے بعد وہ ایتھنز میں مقیم ہو گیا، جہاں جلد ہی ممتاز دولت مندوں میں شامل ہو گیا۔1847 میں فرانسیسی یہودی سرمایہ دار اور بینکار جیمز مائر ڈی روتھشائلڈ یونان پہنچے، جہاں وہ حکومت کو قرض دینے کے امکان پر بات چیت کر رہے تھے۔

لارڈ پالمرسن
لارڈ پالمرسن

اسی دوران یونانی حکام نے ایسٹر کے موقع پر ادا کی جانے والی ایک قدیم مذہبی رسم "یہودا کو جلانے" کی تقریب منسوخ کر دی، جو بعض آرتھوڈوکس مسیحی برادریوں میں رائج تھی۔یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا تاکہ کسی مذہبی یا سیاسی تنازع سے بچا جا سکے جو روتھشائلڈ کو ملک چھوڑنے پر مجبور کر دے اور ممکنہ قرض ضائع ہو جائے۔

عوامی احتجاج سے گھر نذرِ آتش

تاہم اس سرکاری فیصلے نے ایتھنز کے عوام میں شدید غم و غصہ پیدا کر دیا۔ احتجاج کے طور پر مشتعل افراد نے ڈان پاسفیکو کے گھر کا رخ کیا، اسے آگ لگا دی اور اندر موجود بڑی تعداد میں دستاویزات اور قیمتی سامان تباہ کر دیا۔

ان واقعات کے دوران یونانی سکیورٹی فورسز پر دانستہ طور پر مداخلت نہ کرنے کے الزامات لگے اور کہا گیا کہ انہوں نے گھر کی حفاظت سے گریز کیا۔

دوسری جانب بعض روایات میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ ایک یونانی وزیر کا بیٹا اس حملے میں شامل تھا، جس سے معاملہ مزید پیچیدہ اور سیاسی طور پر حساس ہو گیا۔

جیمز مائر ڈی روتھسائلڈ
جیمز مائر ڈی روتھسائلڈ

معاوضے کی مخالفت اور برطانوی مداخلت

ان حالات میں ڈان پاسفیکو نے یونانی حکومت سے معاوضے کا مطالبہ کیا اور ریاست پر اس کی حفاظت میں ناکامی اور ملی بھگت کا الزام لگایا۔

یونانی حکومت نے یہ مطالبات مسترد کر دیے اور واقعے کو معمولی قرار دیا۔ اس کے بعد برطانیہ براہِ راست میدان میں آ گیا، اپنے شہری کی کھل کر حمایت کی اور یونان پر مالی معاوضہ ادا کرنے کے لیے دباؤ ڈالنا شروع کیا۔

برطانوی وزیرِ خارجہ لارڈ پالمرسٹن کے ذریعے لندن نے ایتھنز سے فوری طور پر مطالبات تسلیم کرنے کا کہا۔ برطانوی پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے پالمرسٹن نے کہا کہ برطانیہ کا فرض ہے کہ وہ دنیا کے کسی بھی حصے میں اپنے شہریوں کا تحفظ کرے اور ان کے مؤقف کو ایوان کی بھرپور حمایت حاصل ہوئی۔

انصاف کے نام پر بحری محاصرہ

یونانی انکار کے جاری رہنے پر برطانیہ نے سفارتی دباؤ کو عسکری اقدام میں بدل دیا۔ جنوری 1850 میں دس سے زائد برطانوی جنگی جہاز یونانی ساحلوں پر پہنچے اور سخت بحری محاصرہ نافذ کر دیا، جسے "بحری توپوں کی سفارت کاری" کا عملی مظہر قرار دیا گیا۔

اس محاصرے کے نتیجے میں یونان کی بحری تجارت مفلوج ہو گئی اور متعدد جہاز ضبط کر لیے گئے۔یہ محاصرہ 1850 کی بہار تک جاری رہا۔ اس دوران فرانس اور روس نے برطانوی اقدامات پر شدید تنقید کی اور کئی مواقع پر یونان کے حق میں آواز بلند کی۔ بڑھتے ہوئے عالمی دباؤ کے باعث بالآخر ایتھنز کو پسپائی اختیار کرنا پڑی۔

بحران کا اختتام، کم معاوضے کے ساتھ

ٓآخرکار یونان نے ذمہ داری قبول کر لی اور ایک مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی قائم کی گئی۔ اس کے نتیجے میں ڈان پاسفیکو کو مالی معاوضہ ادا کیا گیا، تاہم یہ رقم اس کے ابتدائی مطالبے سے کہیں کم تھی۔

یوں یہ بحران اختتام پذیر ہوا اور تاریخ میں ایک ایسی مثال کے طور پر محفوظ ہو گیا جو یہ ظاہر کرتی ہے کہ کس طرح برطانیہ نے اپنی بحری طاقت کو خارجہ پالیسی کے آلے کے طور پر استعمال کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں