اطالوی وزارتِ دفاع نے اعلان کیا ہے کہ عراق کے خود مختار علاقے کردستان میں ایک اطالوی فوجی اڈے کو رات گئے میزائل حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
وزارت نے آج جمعرات کی صبح سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر بتایا کہ "ایک میزائل اربیل میں ہمارے فوجی اڈے پر گرا ... اطالوی فوجیوں میں کوئی ہلاک یا زخمی نہیں ہوا۔ تمام اہل کار خیریت سے ہیں"۔
وزارت نے یہ بھی بتایا کہ وزیرِ دفاع جوئیڈو کروسیٹو اس واقعے کے حوالے سے اعلیٰ فوجی حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔
دوسری جانب وزیرِ خارجہ انٹونیو تاجانی نے "ایکس" پر ایک علیحدہ پیغام میں کہا کہ اطالوی فوجی اہل کاروں نے بنکر میں پناہ لی اور وہ تمام "ٹھیک اور محفوظ" ہیں۔ وزارتِ دفاع کی ویب سائٹ کے مطابق اربیل میں اٹلی کے تقریباً 300 فوجی موجود ہیں جو کرد سکیورٹی فورسز کی تربیت کی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔
واضح رہے کہ 28 فروری کو ایک طرف امریکہ و اسرائیل اور دوسری طرف ایران کے درمیان جنگ چھڑنے کے بعد سے، عراق کے صوبے کردستان کے مختلف علاقوں میں ایران اور تہران نواز مسلح گروہوں کے اتحاد کی جانب سے ڈرون اور میزائل حملے دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ ان حملوں میں اربیل ایئرپورٹ پر امریکی اڈوں، الحریر بیس، کرد پیش مرگہ کی بیرکوں، تیل و گیس کی تنصیبات، ایرانی کرد اپوزیشن جماعتوں کے دفاتر، بنیادی ڈھانچے اور ہوٹلوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔
گذشتہ ماہ 28 فروری سے، عراق اور دیگر عرب ممالک میں امریکی سفارت خانے اپنے شہریوں پر زور دے رہے ہیں کہ وہ احتیاط برتیں اور قونصل خانوں یا امریکی اجتماعات کو نشانہ بنائے جانے کے خدشے کے پیشِ نظر جلد از جلد وہاں سے نکل جائیں۔ اس دوران ان اطلاعات کے بعد امریکی خدشات میں مزید اضافہ ہوا ہے جن میں عراق میں موجود ایرانی کرد اپوزیشن گروہوں کو ایران پر زمینی حملے شروع کرنے کے لیے اکسانے کی بات کی گئی ہے۔