امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کا علامتی اظہار (آئی اسٹاک)
ایران کے ساتھ مذاکرات کی صورت حال غیر مستحکم ہے : وائٹ ہاؤس
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے "ABC" چینل سے بات کرتے ہوئے کہا "یہ حساس سفارتی بات چیت ہے".
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے تنازع کے حل کے حوالے سے ایران کے ساتھ مذاکرات کی صورت حال کو غیر مستحکم قرار دیا ہے۔ لیویٹ نے منگل کے روز "اے بی سی" چینل سے بات کرتے ہوئے کہا "یہ حساس سفارتی بات چیت ہے اور امریکہ سوشل میڈیا کے ذریعے کوئی بیان پیش نہیں کرے گا۔ یہ ایک غیر مستحکم صورت حال ہے اور مذاکرات کے بارے میں قیاس آرائیوں کو اس وقت تک حتمی نہیں سمجھا جا سکتا جب تک وائٹ ہاؤس با ضابطہ طور پر ان کا اعلان نہ کر دے"۔
چینل نے امریکی وزارت خارجہ سے اس امکان پر تبصرہ کرنے کی درخواست کی تھی کہ آیا خصوصی صدارتی ایلچی اسٹیفن وٹکوف، امریکی صدر کے داماد جیرڈ کشنر اور نائب صدر جے ڈی وینس اسلام آباد میں ایرانی فریق کے ساتھ مذاکرات کے لیے پاکستان کا دورہ کریں گے ... اور یہ درخواست وائٹ ہاؤس کو بھیج دی گئی۔
دوسری جانب ایک پاکستانی عہدے دار نے "اے بی سی" چینل کو بتایا کہ ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے "کئی تجاویز" موجود ہیں جن میں اسلام آباد میں براہ راست ملاقات بھی شامل ہے۔ انھوں نے اشارہ کیا کہ امریکی ایرانی رابطے غالباً صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی "ٹروتھ سوشل" پلیٹ فارم پر پوسٹ کے مطابق پانچ دنوں کے اندر ہوں گے، لیکن پاکستانی عہدے دار نے اس بات پر زور دیا کہ اس معاملے پر ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔
ادھر ڈونلڈ ٹرمپ نے 23 مارچ کو "ٹروتھ سوشل" پلیٹ فارم کے ذریعے لکھا کہ واشنگٹن اور تہران نے دشمنی کے خاتمے کے حوالے سے "گذشتہ دو دنوں کے دوران بہت اچھے اور نتیجہ خیز مذاکرات" کیے ہیں۔ ان کے مطابق مشاورت "پورے ہفتے" جاری رہے گی اور ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی وزارت دفاع "پینٹاگان" کو ایرانی توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے پانچ دن کے لیے ملتوی کرنے کی ہدایات جاری کیں۔
امریکی صدر نے صحافیوں کو بتایا کہ امریکہ اور ایران دونوں ہی کسی معاہدے تک پہنچنے کی خواہش ظاہر کر رہے ہیں اور دونوں فریقوں کے پاس "اتفاق کے اہم نکات" موجود ہیں۔
اپنی طرف سے ایرانی وزارت خارجہ کے سرکاری ترجمان اسماعیل بقائی نے "ارنا" نیوز ایجنسی کو بتایا کہ تہران نے امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں کیے، لیکن ثالثوں کے سامنے اپنا موقف واضح کر دیا ہے۔
ایرانی مجلس شوریٰ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کی تردید کی۔ ایرانی وزارت خارجہ نے اعلان کیا کہ اسے مذاکرات کی امریکی درخواست کے حوالے سے "دوست ممالک سے پیغامات" موصول ہوئے ہیں۔
ایرانی شہروں خاص طور پر دارالحکومت تہران کو 28 فروری کو ایران کے خلاف شروع ہونے والے مشترکہ امریکی اسرائیلی حملے کے بعد سے تقریباً روزانہ بمباری کا سامنا ہے۔ اس کے نتیجے میں رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای سمیت اعلیٰ حکام ہلاک ہو چکے ہیں۔
ایران نے اس کا جواب اسرائیل پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کر کے دیا ہے۔ اس کے علاوہ خلیج میں امریکی مفادات کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔