ایران کے طاقتور ترین شخص باقر قالیباف کے بارے میں تفصیلات

علی لاریجانی کے قتل کے بعد نظریں ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر پر جم گئی ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

اس وقت جب ایک اسرائیلی عہدیدار نے انکشاف کیا کہ امریکی مندوب سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں تو قالیباف نے اس کی مکمل تردید کردی۔

تاہم اس تردید کے باوجود اس وقت قالیباف کا نام منظرِ عام پر چھایا ہوا ہے۔ خاص طور پر اس لیے کہ مذاکرات کے لیے ان کا انتخاب ایک سرپرائز قرار دیا گیا ہے کیونکہ وہ مغرب اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے سخت گیر موقف کے لیے معروف ہیں۔

محمد باقر قالیباف کون ہیں؟

گزشتہ 28 فروری کو ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی ہلاکت اور کئی بڑے ایرانی رہنماؤں کے مارے جانے اور ان کے بیٹے مجتبیٰ (نئے سپریم لیڈر) کے زخمی ہونے کی تصدیق کے بعد نظریں ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی پر جمی ہوئی تھیں۔ لیکن گزشتہ ہفتے لاریجانی کے قتل کے بعد سب سے اہم سوال یہ بن گیا کہ آج ایران پر کون حکومت کر رہا ہے؟۔ یہاں تک کہ امریکی صدر نے اعلان کیا کہ مذاکرات ایک بڑے ایرانی عہدیدار سے ہوئے ہیں، سپریم لیڈر سے نہیں۔

پھر ایک اسرائیلی عہدیدار کے حوالے سے ہونے والی لیکس میں انکشاف ہوا کہ مذاکرات کرنے والا بڑا ایرانی عہدیدار قالیباف ہیں۔ یاد رہے قالیباف ایرانی سیاست میں ایک ممتاز شخصیت ہیں۔ وہ 23 اگست 1961 کو طرقبہ / خراسان میں پیدا ہوئے۔ قالیباف اپنے عملی انتظامی انداز کے لیے معروف ہیں۔ وہ پاسدارانِ انقلاب کے سابق فضائیہ سربراہ (1997-2000) ہونے کی حیثیت سے پاسداران انقلاب کے قریب تصور کیے جاتے ہیں۔

ان کی عوامی خدمات کی ایک طویل تاریخ ہے۔ وہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کے سربراہ (2000-2005)، تہران کے میئر (2005-2017) اور پارلیمنٹ کے سپیکر (2020) بھی رہ چکے ہیں۔ قالیباف چار بار صدارت کے لیے امیدوار رہے۔ 2005، 2013، 2017 اور 2024 میں وہ صدارت کے امیدوار تھے۔ تاہم 2017 میں انہوں نے پولنگ سے ایک دن قبل نام واپس لے لیا تھا۔

علی لاریجانی کے قتل کے بعد قالیباف کو ایران کی طاقتور ترین شخصیات میں سے ایک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ انہیں ایک ایسا طاقتور شخص قرار دیا گیا ہے جو ملک کی جنگی اور سیاسی قیادت میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق قالیباف نے خاص طور پر علی لاریجانی کے قتل کے بعد اپنے ’’ ایکس ‘‘ اکاؤنٹ پر پوسٹس کے ذریعے اپنے رجحانات کا اظہار کیا۔ وہ ایک ایسے عہدیدار کے طور پر ابھرے ہیں جو پالیسی پیغامات بھیج رہا ہے اور جنگ کے حقائق کو تبدیل کر رہا ہے۔

اسی دوران انہوں نے ایک بار آبنائے ہرمز کے بارے میں دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ جنگ سے پہلے جیسی حالت پر واپس نہیں آئی گے۔ پھر انہوں نے اعلان کیا کہ "آنکھ کے بدلے آنکھ کی مساوات" نافذ ہو چکی ہے اور تصادم کا ایک نیا درجہ شروع ہو گیا ہے جو امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کی طرف اشارہ تھا۔ ایک اور پوسٹ میں انہوں نے ایرانی میزائل صلاحیتوں کی تباہی سے متعلق امریکی بیانات کا مذاق اڑایا ہے۔ انہوں نے صدر ٹرمپ کی توانائی کے مراکز کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی جزائر پر کسی بھی جارحیت کے نتیجے میں تمام تر صبر و تحمل ختم ہو جائے گا۔ اس بیان کو ان کے موجودہ مرکزی کردار کی علامت سمجھا گیا ہے۔

مذاکرات یا کوئی مذاکرات نہیں؟

یاد رہے قالیباف نے اپنے ’’ ایکس ‘‘ اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں لکھا ہے کہ امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہوئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جعلی خبریں مالیاتی اور تیل کی منڈیوں میں ہیرا پھیری کے لیے اور اس تعطل سے نکلنے کے لیے استعمال کی جا رہی ہیں جس میں امریکہ اور اسرائیل پھنس چکے ہیں۔ ادھر ایک بڑے ایرانی اہلکار نے بتایا کہ واشنگٹن نے ہفتے کے روز ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر قالیباف سے ملاقات کی درخواست کی تھی اور تہران نے ابھی تک جواب نہیں دیا۔

یہ پوسٹ اس وقت سامنے آئی جب ایک اسرائیلی اہلکار نے بتایا کہ ثالث ممالک اسلام آباد میں ایک ملاقات کرانے کی کوشش کر رہے ہیں جس میں قالیباف اور تہران کی نمائندگی کرنے والے دیگر حکام شرکت کریں گے۔ واشنگٹن کی نمائندگی وٹکوف، کشنر اور ممکنہ طور پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اس ہفتے کے آخر میں کریں گے۔ اسرائیلی ذرائع نے "چینل 12" کے حوالے سے یہ بھی بتایا کہ مذاکرات قالیباف کے ساتھ ہو رہے ہیں۔

رائٹرز کے مطابق اسرائیلی حکام نے کہا ہے کہ واشنگٹن اور تہران اس ہفتے اسلام آباد میں مذاکرات کر سکتے ہیں۔ تاہم "فاکس نیوز" نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے حوالے سے مذاکرات اتوار کی شام ہوئے جس میں مندوبین کشنر اور وٹکوف اور ان کے ہم منصبوں نے شرکت کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں