جرمن وزیر خارجہ یوہان واڈےفیہول (اے ایف پی)
برلن نے یورپ میں امریکی افواج کی کمی کے بعد خدشات کو مسترد کر دیا
جرمنی کے وزیر خارجہ یوہان واڈےفیہول نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ شمالی اوقیانوس کا دفاعی معاہدہ (نیٹو) یورپ میں اپنی روایتی دفاعی صلاحیتوں میں کسی قسم کی کمی کا سامنا نہیں کرے گا، باوجود اس کے کہ امریکہ نے جرمنی میں تعینات اپنی افواج کی تعداد کم کرنے کے ارادے کا اعلان کیا ہے۔
یوہان واڈےفیہول نے پیر کے روز ایتھنز میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ امریکی اقدام کو یورپی ممالک کے لیے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو تیزی سے ترقی دینے اور انہیں بروئے کار لانے کے لیے ایک نئی پکار کے طور پر سمجھا جانا چاہیے۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ اب اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔
روئٹرز کے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ جرمنی کو ان فیصلوں کے حوالے سے امریکہ کے ساتھ قریبی بات چیت کی ضرورت ہے جو حتمی طور پر لیے جا چکے ہیں، نیز برلن کے پاس ان فیصلوں پر اثر انداز ہونے کے لیے دستیاب اختیارات پر بھی غور کرنا ہو گا۔
یہ بیان یورپی بیانیے میں اس بڑھتی ہوئی تبدیلی کے دوران سامنے آیا ہے جو دفاعی خود مختاری کو مضبوط بنانے کی طرف مائل ہے، خاص طور پر امریکی فوجی حکمت عملی میں تبدیلی اور واشنگٹن کی جانب سے دنیا کے دیگر خطوں پر توجہ مرکوز کرنے کے اشاروں کے تناظر میں۔
جرمنی سرد جنگ کے بعد سے یورپ میں امریکی افواج کی تعیناتی کے اہم ترین مقامات میں سے ایک رہا ہے، جہاں نیٹو کی کارروائیوں کی مدد کے لیے استعمال ہونے والے بڑے فوجی اڈے موجود ہیں۔
تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ ہفتے کے روز اعلان کیا تھا کہ ان کا ملک جرمنی سے 5000 سے زائد امریکی فوجی نکال لے گا، جبکہ جرمن چانسلر فريڈرک ميرتس کے ساتھ تناؤ میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
برلن کی جانب سے دی گئی یقین دہانیوں کے باوجود امریکی افواج میں کسی بھی کمی کے اثرات کا اندازہ انخلا کے حجم اور نوعیت کے ساتھ ساتھ کسی بھی ممکنہ کمی کو پورا کرنے کے لیے یورپی ممالک کی تیاری پر منحصر ہے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب نیٹو کو یوکرین میں جنگ اور روس کے ساتھ تناؤ سمیت بڑھتے ہوئے چیلنجوں کا سامنا ہے، جو یورپ میں فوجی دفاع کے معاملے کو ایک مرکزی مسئلہ بناتا ہے۔