سفاکانہ انتقام،بیرون ملک مخالفین کے خلاف ایران کی خفیہ جنگ
لندن میں ایرانی سفارت خانے کی جانب سے برطانوی مقیم ایرانیوں کو "وطن کے لیے قربانی" کی مہم میں شامل ہونے کی ترغیب، مغربی حکومتیں تشویش میں مبتلا
ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی جنگ میں جنگ بندی کے آغاز کے ساتھ ہی لندن میں ایرانی سفارت خانے نے میسجنگ ایپ ٹیلی گرام پر ایک "بھرتی مہم" کا پیغام جاری کیا ہے۔ اس پیغام میں برطانیہ میں مقیم ایرانیوں کو ایک لنک پر کلک کر کے اس مہم میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے جسے "وطن کے لیے قربانی کی مہم" کا نام دیا گیا ہے۔ اس پیغام میں ایران کے تمام غیرت مند بیٹوں اور بیٹیوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اتحاد کا مظاہرہ کریں۔
تہران نے دعویٰ کیا ہے کہ لاکھوں عام شہریوں نے اس مہم میں اپنا نام درج کرایا ہے۔
تاہم برطانوی حکومت نے اس معاملے کو منفی نظر سے دیکھا ہے۔ اس نے ایرانی سفیر کو طلب کر کے مطلع کیا ہے کہ یہ افعال اور بیانات قطعی طور پر ناقابل قبول ہیں اور سفارت خانے کو ہر اس قسم کے رابطے بند کرنے چاہئیں جس کی تشریح برطانیہ کے اندر یا بین الاقوامی سطح پر تشدد کی ترغیب کے طور پر کی جا سکے۔
اخبار فنانشل ٹائمز کے مطابق یہ واقعہ مغربی حکومتوں کے لیے ان ایرانی ایجنٹوں کی سرگرمیوں کے حوالے سے گہری تشویش کا اشارہ ہے جو ان کی سرزمین پر موجود ہیں۔ یہ تشویش تہران کی بیرون ملک خفیہ صلاحیتوں اور ایران پر ہونے والے کسی بھی حملے کے جواب میں ان کے ممکنہ استعمال کے پیش نظر مزید بڑھ گئی ہے۔
مغربی انٹیلی جنس ادارے تہران پر طویل عرصے سے یہ الزام عائد کرتے رہے ہیں کہ وہ بیرون ملک اپنے مخالفین، خواہ وہ ایرانی ہوں یا غیر ایرانی جنہیں وہ خطرہ سمجھتا ہے، ان کے خلاف خوف و ہراس پھیلانے، حملوں، اغواء اور یہاں تک کہ قتل کی مہمات منظم کرتا رہا ہے۔
یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس نے اسرائیل سے وابستہ مقامات اور یہودی برادریوں کو نشانہ بنایا ہے۔ مئی سنہ 2026ء میں دو افراد پر ایک مقدمہ چلایا جانا ہے جن پر دسمبر سنہ 2024ء میں ومبلڈن کی ایک سڑک پر ایران انٹرنیشنل نامی مخالف چینل کے میزبان پوریا زراعتی پر خنجر سے حملے کا الزام ہے۔
حملوں میں اضافے کا خدشہ
28 فروری سنہ 2026ء کو جنگ چھڑنے کے بعد سے کئی یورپی ممالک نے ابتدائی طور پر ایران کو آگ لگانے کی وارداتوں اور دیگر حملوں کی لہر کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے، جن میں ایک ہی ہفتے کے اندر برطانیہ میں ہونے والے کم از کم پانچ حملے شامل ہیں۔ یورپی سکیورٹی حکام نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ تہران بعد ازاں مرشد علی خامنہ ای سمیت اعلیٰ ایرانی قائدین کے قتل کے انتقامی ردعمل کے طور پر کسی مغربی رہنما یا فوجی اڈے کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
انتقام ایک مذہبی فریضہ ہے
اس تناظر میں قومی سکیورٹی کے سابق اعلیٰ برطانوی عہدیدار اور انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹجک اسٹڈیز کے موجودہ مشیر جان رائن نے کہا ہے کہ وہ امریکی اثاثوں جیسے کہ کسی اڈے، جنگی جہاز، کسی قیادت کرنے والی شخصیت یا کسی بھی ایسے ہدف کو نشانہ بنانے کی شدید خواہش رکھتے ہوں گے جو اہمیت کے لحاظ سے سپریم لیڈر کی موت کے برابر ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ اپنے نظریے کے مطابق ایرانی حکام نے بیرون ملک اپنی صلاحیتوں پر بہت سرمایہ کاری کی ہے لیکن انہیں ضرورت کے وقت استعمال کے لیے بچا کر رکھا ہے۔ ان کے خیال میں ایرانی قائدین کے لیے "انتقام ایک جذباتی ردعمل سے زیادہ ایک مذہبی فریضہ ہے"۔ تاہم انہوں نے اشارہ کیا کہ یہ جنگ سے الگ ایک الگ ٹائم فریم میں ہوگا اور یہ ایک ایسا انتقام ہوگا جو بہت ٹھنڈے مزاج کے ساتھ لیا جائے گا۔
انٹرنیٹ کے ذریعے بھرتیاں
دوسری جانب ماہرین کا خیال ہے کہ ایرانی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کا شیرازہ بکھرنے، جس میں گذشتہ مارچ سنہ 2026ء میں سکیورٹی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی اور وزیر انٹیلی جنس اسماعیل خطیب کی ہلاکت شامل ہے، نے فوری ردعمل دینے کی صلاحیت کو محدود کر دیا ہے، اگرچہ ان کے سکیورٹی ادارے اب بھی کام کر رہے ہیں۔
ایرانی نظام کو مغربی سرزمین پر پیچیدہ آپریشنز کرنے میں دشواری کا سامنا رہا ہے۔ ایک تجزیہ نگار کے مطابق اس نے بڑی حد تک "فری لانس" کام یعنی مجرمانہ گروہوں، کرائے کے ایجنٹوں اور پراکسی نیٹ ورکس پر بھروسہ کیا ہے جنہیں انٹرنیٹ کے ذریعے بھرتی کیا جاتا ہے۔
ایک سابق یورپی سکیورٹی عہدیدار نے بتایا کہ اس کا ڈھانچہ تہوں پر مشتمل ہے، یعنی ایران کے اندر بیٹھا کوئی شخص رومانیہ یا چیچنیا کے کسی واسطے سے رابطہ کرتا ہے، اور وہ شخص آگے ہدف بنائے گئے ملک میں کارندوں کو چلاتا ہے، جس سے ایک فاصلہ پیدا ہو جاتا ہے اور ایران کے لیے اس سے انکار کرنا ممکن ہوتا ہے۔
واضح رہے کہ تہران سے منسوب قتل کے زیادہ تر منصوبوں میں اب تک کم از کم ایرانی شہریوں کو ہی نشانہ بنایا گیا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ اور سکیورٹی کے ماہر روجر میک ملن کے مطابق سنہ 2022ء میں نیویارک میں میزبان اور کارکن مسیح علی نژاد کے خلاف ایسا ہی ایک منصوبہ بنایا گیا تھا۔ حملے سے پہلے ہی ایک مسلح شخص کو گرفتار کر لیا گیا تھا جس کے قبضے سے چین کی بنی ہوئی اسالٹ رائفل برآمد ہوئی تھی۔
تاہم اس کے باوجود سابقہ ادوار میں اعلیٰ مغربی رہنماؤں اور حکام کے خلاف بھی منصوبے بے نقاب ہوئے ہیں۔ سنہ 2024ء میں واشنٹن نے پاسداران انقلاب کے ایک مبینہ رکن شہرام پورصافی پر الزام لگایا کہ اس نے سنہ 2020ء میں ایک امریکی ڈرون حملے میں قدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے انتقام میں ڈونلڈ ترامب کے سابق قومی سکیورٹی مشیر جان بولٹن کے قتل کی کوشش کی۔
امریکی حکام نے اس وقت انکشاف کیا تھا کہ پورصافی نے سنہ 2021ء اور سنہ 2022ء کے دوران کئی ماہ امریکہ کے اندر "مجرمانہ عناصر" کو بولٹن کے قتل کے لیے کرائے پر حاصل کرنے کی کوششوں میں گزارے اور اس کارروائی کے لیے تین لاکھ ڈالر کی پیشکش کی۔
ایرانی خطرات کے نتیجے میں امریکی حکومت نے سنہ 2024ء میں سابق وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور ایران کے لیے ترامب کے اس وقت کے خصوصی نمائندے برائن ہک کو سکیورٹی فراہم کی تھی۔
یونٹ 840
یورپی سکیورٹی عہدیدار کے مطابق قدس فورس کے خصوصی آپریشنز یونٹ، جسے موساد "یونٹ 840" کہتی ہے، نے سنہ 2012ء میں مکمل طور پر کام شروع کیا تھا اور یہ بیرون ملک غیر ملکیوں کے خلاف اغواء اور قتل کی کارروائیاں کرتا ہے۔ اس یونٹ کے افسران نے قبرص، ایتھوپیا، کینیا اور کولمبیا جیسی جگہوں پر اسرائیلی سفارت کاروں یا انٹیلی جنس اہلکاروں کے خلاف کارروائیاں کرنے کی کوششیں کیں۔ اسرائیلی تاجروں کو گھانا، تنزانیہ اور سینیگال میں بھی نشانہ بنایا گیا۔
امریکی میرینز کے سابق سپیشل آپریشنز فوجی اور ماہر انسداد دہشت گردی جوناتھن ہیکیٹ نے کہا کہ مدمقابل اہداف کے لیے مخصوص ٹیمیں بھیجی جاتی ہیں اور غیر ایرانیوں کے تعاقب کے لیے بالکل الگ ٹیم ہوتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنگ کے دوران ایران کے بیرون ملک سکیورٹی اور انٹیلی جنس اداروں کی کئی اہم شخصیات کی ہلاکت نے مستقبل قریب میں کسی بڑے پیمانے کی کارروائی کے امکان کو کم کر دیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ گذشتہ سال کے آخر میں برطانوی داخلی سکیورٹی ایجنسی (MI5) کے سربراہ کین میکالم نے "ایرانی سرحد پار جارحیت کی لہر" کے بارے میں بات کی تھی جس میں آسٹریلیا، سپین اور ہالینڈ میں ناکام بنائے گئے قتل کے منصوبے شامل تھے۔ انہوں نے گذشتہ اکتوبر میں کہا تھا کہ ایم آئی 5 نے صرف سنہ 2025ء کے دوران ایران کی حمایت یافتہ 20 سے زائد ممکنہ طور پر جان لیوا منصوبوں کا سراغ لگایا ہے۔
مئی سنہ 2026ء میں برطانوی پولیس نے قومی سکیورٹی کو لاحق مبینہ خطرات کی دو تحقیقات کے سلسلے میں سات ایرانی شہریوں سمیت آٹھ افراد کو گرفتار کیا ہے، جن کا ٹرائل آئندہ اکتوبر میں شروع ہونا ہے۔
-
اسلام آباد کا امریکی تحویل میں لیے گئے ایرانی جہاز کے متعلق اہم معلومات کا انکشاف
پاکستانی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ نے ایرانی کنٹینر جہاز تحویل میں ...
بين الاقوامى -
آبنائے ہرمز کو ’ہم آہنگی سے دوبارہ کھولیں‘: میکرون کا امریکہ، ایران پر زور
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے پیر کو امریکہ اور ایران پر زور دیا ہے کہ وہ آبنائے ...
بين الاقوامى -
ایران کا دعویٰ: امریکی جنگی جہاز کو واپس پلٹنے پر مجبور کر دیا، سینٹ کام کی جانب سے تردید
آبنائے ہرمز میں امریکی بحریہ کا کوئی جہاز نشانہ نہیں بنا: مرکزی کمان
مشرق وسطی