واشنگٹن میں اسرائیلی لبنانی اجلاس (آرکائیو فوٹو - روئٹرز)
لبنان نے واشنگٹن میں اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کا ایک نیا دور اس عزم کے ساتھ شروع کیا ہے کہ براہ راست بات چیت کو آگے بڑھایا جائے گا۔ اگرچہ یہ دور ایران کے اس فیصلے کے جلو میں ہے جس کے تحت اس نے لبنانی معاملے کو امریکہ کے ساتھ اپنی بات چیت میں شامل کر لیا ہے۔
منگل کے روز واشنگٹن میں دونوں ممالک کے سیاسی، سکیورٹی اور عسکری وفود کے درمیان تین روزہ مذاکرات کا پانچواں دور شروع ہوا... جبکہ لبنانی حکام کا اصرار ہے کہ مذاکرات ہی 2 مارچ سے جاری جنگ کے خاتمے کا واحد راستہ ہیں۔
لبنانی صدر جوزف عون نے آج اس بات اعادہ کیا کہ یہ نیا دور فیصلہ کن ہو سکتا ہے۔ انہوں نے اسرائیلی "قبضے" اور بیرونی "سرپرستی" کو مسترد کرنے کے لبنانی موقف کو دہرایا۔ انہوں نے ایک بیان میں واضح کیا کہ وہ اسرائیلی "قبضے" کے خاتمے سے کم کسی چیز کو قبول نہیں کریں گے۔ واضح رہے کہ اپریل سے اب تک ہونے والے پچھلے چار دور تا حال مستقل جنگ بندی یا جنوبی علاقوں سے اسرائیلی فوج کے انخلاء میں کامیاب نہیں ہو سکے۔
البتہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کی یاد داشت پر دستخط کے بعد اس ہفتے لڑائی میں سب سے طویل وقفہ دیکھنے میں آیا ہے۔ لبنانی صدارت نے اعلان کیا ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو نے صدر عون کو مطلع کیا ہے کہ امریکہ، لبنان اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے طریقہ کار پر بات چیت جاری ہے۔ حکام نے صدر عون کے ساتھ واشنگٹن اور تہران کے درمیان معاہدے کے تحت لبنان میں جنگ بندی کی نگرانی کے لیے ایک باڈی کے قیام کی تجویز پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
دوسری جانب ایک لبنانی اور دو غیر ملکی عہدیداروں کے مطابق ایرانی-امریکی معاہدے نے لبنانی ریاست کو کمزور ترین پوزیشن میں ڈال دیا ہے اور ان مذاکرات کی افادیت پر سوالات اٹھائے ہیں۔ لبنانی عہدیدار نے خدشہ ظاہر کیا کہ تین روزہ مذاکرات سے کسی ٹھوس پیش رفت کا امکان کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان ہے، جبکہ لبنانی وفد اسرائیل سے جنوب سے انخلاء کے لیے ایک معقول ٹائم ٹیبل کا مطالبہ کرے گا۔ تاہم اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ افواج غیر معینہ مدت تک جنوبی لبنان میں رہیں گی۔
ادھر اسرائیل نے واضح کیا ہے کہ مذاکرات کا مقصد حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا اور لبنان کے ساتھ حقیقی امن معاہدے تک پہنچنا ہے۔ اسرائیلی حکومت کے ترجمان ڈیوڈ مینسر نے کہا کہ معاہدے کی واحد رکاوٹ حزب اللہ ہے، اس لیے اسے غیر مسلح اور تحلیل کیا جانا چاہیے۔
یاد رہے کہ لبنانی حکومت 2025 سے حزب اللہ کو براہِ راست تصادم کے بغیر غیر مسلح کرنے کے لیے محتاط کوششیں کر رہی ہے، جبکہ حزب اللہ نے مکمل غیر مسلح ہونے سے انکار کیا ہے اور حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ براہِ راست مذاکرات سے دست بردار ہو جائے۔ تنظیم کا ماننا ہے کہ ایران امریکہ کے ساتھ حتمی معاہدے کے دوران اسرائیلی انخلاء کا مطالبہ کرے گا، لہذا لبنانی حکومت کو براہِ راست مذاکرات کے بجائے اس راستے پر انحصار کرنا چاہیے۔