امریکہ اورایران کے مابین معاہدہ،ایران کا امریکی اشیا کی خریداری کےلیےپابندی کا دعویٰ مسترد
ایران کے ایک سے زائد حکام نے اعادہ کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ معاہدے کے تحت جو ایرانی اثاثے بحال کیے جائیں گے، وہ صرف امریکی مصنوعات خریدنے کے لیے استعمال نہیں ہوں گے بلکہ ایران کو ان کے استعمال کا مکمل اختیار حاصل ہوگا۔
ایرانی مذاکراتی ٹیم کے رکن حسین قربان زادہ نے وضاحت کی کہ کسی بھی مفاہمت یا معاہدے میں امریکی اشیا کی خریداری کی کوئی اجارہ داری نہیں ہے۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی 'اسنا' کے مطابق انہوں نے کہا کہ امریکی اشیا کی خریداری کا انحصارمفاہمت کی یادداشت کے متن میں ہے نہ ہی مذاکرات میں اور نہ ہی کسی مسودے میں اس کا ذکر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس یا کسی بھی دوسرے امریکی اہلکار کی جانب سے اس خیال کا اظہار محض داخلی کھپت کے لیے ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ یہ دعویٰ صرف یہ ثابت کرتا ہے کہ زرعی مصنوعات کی خریداری کے مواقع تک رسائی دیگر ممالک کے علاوہ امریکہ تک بھی ہے لیکن اس کا انتخاب خریدار یعنی ایران کرے گا۔
اسی طرح جنیوا میں اقوام متحدہ کے لیے ایران کے مندوب علی بحرینی اور وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی اس بات کی تردید کی کہ واشنگٹن کا ان فنڈز پر کوئی کنٹرول ہے یا انہیں صرف امریکی اشیا خریدنے کے لیے استعمال کرنا لازمی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا موقف
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے ایران کے غیر منجمد کیے جانے والے اثاثے صرف امریکہ سے زرعی مصنوعات اور ادویات خریدنے کے لیے استعمال ہوں گے۔ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ٹروتھ سوشل' پر لکھا کہ امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ یا پابندیوں کے تحت حاصل ہونے والی رقم ایک کنٹرولڈ اکاؤنٹ میں رکھی جائے گی اور یہ رقم صرف امریکہ سے خوراک اور ادویات بشمول مکئی، گندم اور سویابین خریدنے کے لیے استعمال کی جائے گی۔ ٹرمپ اور ان کے نائب جے ڈی وینس نے گزشتہ روز بھی اسی موقف کا اظہار کیا تھا۔
یاد رہے کہ 18 جون کو ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان دستخط شدہ مفاہمت کی یادداشت کے 14 نکات میں سے ایک میں تہران پر عائد امریکی پابندیوں میں نرمی اور بیرون ملک منجمد کچھ مالی اثاثوں کی بحالی شامل ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ نے پیر کے روز اعلان کیا تھا کہ وہ جاری مذاکرات کے پیش نظر 21 اگست تک ایرانی خام تیل اور متعلقہ مصنوعات کی پیداوار، فروخت اور ترسیل پر عائد پابندیاں عارضی طور پر اٹھا لے گا۔ یہ فیصلہ سوئٹزرلینڈ کے علاقے بورگن اسٹاک میں قطر اور پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کے بعد سامنے آیا ہے، جہاں دونوں ممالک نے پابندیوں، منجمد اثاثوں، آبنائے ہرمز، جوہری پروگرام اور لبنان کے امور پر تنازعات حل کرنے کے لیے ورکنگ گروپس تشکیل دینے پر اتفاق کیا ہے۔
-
ٹرمپ کا اصرار: ایران جوہری معائنے پر رضامند ہو گیا ہے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو اصرار کیا ہے کہ ایران نے مستقبل میں طویل عرصے تک ...
مشرق وسطی -
جاری کردہ اثاثہ جات کے استعمال کا تعین کرنے والا واحد ملک ایران ہو گا: سفیر
ایک ایرانی سفیر نے منگل کو امریکی دعووں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران تنہا ...
مشرق وسطی -
لبنان کے حوالے سے ایران کے ساتھ ہمارے رابطوں کا مقصد حزب اللہ پر دباؤ ڈالنا ہے : وینس
لبنان کی ایک مسیحی سیاسی جماعت 'لبنانی فورسز' پارٹی کے سربراہ سمیر جعجع کی جانب سے ...
بين الاقوامى