"ہر کوئی تم سے تنگ آ چکا ہے"، ٹرمپ نیتن یاہو پر سخت برہم، نئی کتاب میں چشم کشا انکشافات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گذشتہ چند ہفتوں کے دوران یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے درمیان تعلقات خوشگوار نہیں ہیں۔ تاہم حالیہ عرصے میں منظر عام پر آنے والے اس تناؤ سے قبل گذشتہ برس بھی دونوں رہنماؤں کے درمیان شدید کشیدگی دیکھی گئی تھی۔ یہ کشیدگی غزہ میں جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے اعلان سے چند دن پہلے کی بات ہے۔

"بی بی ہر کوئی تم سے تنگ آ چکا ہے"

صحافیوں میگی ہیبرمین اور جوناتھن سوان کی لکھی گئی نئی کتاب 'Regime Change' (حکومت کی تبدیلی) میں امریکی صدر اور اسرائیلی وزیراعظم کے درمیان ایک انتہائی کشیدہ ٹیلی فونک گفتگو کی تفصیلات کا انکشاف کیا گیا ہے۔ کتاب کے مطابق اس کال کے دوران ٹرمپ نے نیتن یاہو کو شدید جھاڑ پلائی اور ان پر سخت الفاظ اور گالیاں برسائیں۔

ٹرمپ نے اس فون کال میں جس میں جیرڈ کشنر اور وائٹ ہاؤس کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف بھی موجود تھے نیتن یاہو سے کہا "بی بی، ہر کوئی تم سے تنگ آ چکا ہے۔ ہر یہودی تم سے تنگ آ چکا ہے، حتیٰ کہ لائن پر موجود یہ دو یہودی (کشنر اور وٹکوف) بھی تم سے اکتا چکے ہیں"۔

یہ انکشافات کتاب کے اس باب میں شامل ہیں جس میں ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کے پہلے سال کے سیاسی ارتقاء، وائٹ ہاؤس کے پس پردہ واقعات اور امریکہ کے اندر و باہر اعلیٰ حکام کے درمیان تعلقات کا احاطہ کیا گیا ہے۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

یہ انکشافات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے اور لبنان میں جاری جنگ کے تناظر میں دونوں رہنماؤں کے درمیان نئی کشیدگی پائی جاتی ہے۔ ٹرمپ نے گذشتہ چند ہفتوں کے دوران نیتن یاہو کو "پاگل" قرار دیا اور اسرائیل کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ "ہر بار جب آپ کسی شخص کو تلاش کر رہے ہوتے ہیں تو آپ کو پورا اپارٹمنٹ گرانے کی ضرورت نہیں ہے"۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں