ایران کی رقوم صرف امریکی مصنوعات پر خرچ ہوں گی... ٹرمپ کا دوبارہ اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دوبارہ تصدیق کی ہے کہ جاری کی جانے والی ایرانی رقوم صرف امریکی مصنوعات خریدنے کے لیے استعمال ہوں گی۔
ٹرمپ نے آج بدھ کو اپنے پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل" پر ایک پوسٹ میں کہا کہ امریکہ ایران کو کوئی رقم فراہم نہیں کرے گا۔

امریکی صدر نے مزید کہا کہ تہران نے واشنگٹن کو یقین دلایا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے کوئی ٹرانزٹ فیس یا خدمات کے معاوضے عائد نہیں کرے گا۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر ایران نے ہرمز سے گزرنے کے لیے کوئی فیس عائد کی تو امریکہ فوری طور پر مذاکرات بند کر دے گا۔

اس کے علاوہ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکہ نے ایران کو کوئی رقم نہیں دی اور نہ اس کی کوئی رقم جاری کی ہے۔ بلکہ یہ اس کی رقوم کا ایک حصہ جاری کرے گا جو مکمل طور پر امریکہ کے کنٹرول میں ہے، تاکہ امریکہ کے کسانوں اور مویشی پالنے والوں کے لیے مکئی، گندم، سویابین اور دیگر اشیاء خریدی جا سکیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کی کہ امریکہ ایران کے لیے غذا خصوصی طور پر اپنی مصنوعات سے خریدے گا۔

بعد ازاں فوکس نیوز کو دیے گئے بیان میں ٹرمپ نے تصدیق کی کہ تہران اپنی سرزمین میں جوہری معائنہ کاروں کو داخل ہونے کی اجازت دینے پر رضامند ہو گیا ہے، لیکن ان کی آمد کے حوالے سے کوئی جلدی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی معائنہ کار ایران کے جوہری مقامات کے معائنے کے لیے جوہری ایجنسی میں شامل ہوں گے۔

دوسری جانب امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے سی این این کو دیے گئے بیان میں وضاحت کی کہ ایرانی رقوم کا بہت بڑا حصہ امریکی وزارت خزانہ کی نگرانی میں امریکی خوراک اور ادویات خریدنے کے لیے مختص کیا جائے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ ایران کو ملنے والی کوئی بھی رقم ایرانیوں کے لیے ہے۔
وزیر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ وزارت خزانہ جاری ہونے کے بعد ایرانی رقوم کی نگرانی کرے گی۔

یہ سب کچھ ایسے وقت سامنے آیا جب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کل منگل کے روز ان خبروں کی تردید کی کہ ایرانی منجمد اثاثوں کی رہائی کو امریکہ سے زرعی مصنوعات یا اشیاء خریدنے سے مشروط کیا گیا ہے۔

اسی طرح ایران کے مرکزی بینک کے گورنر عبد الناصر ہمتی نے بھی امریکی صدر کے اس اعلان کی تردید کی... جس میں کل کہا گیا تھا کہ معاہدہ تہران کو اس بات کا پابند کرتا ہے کہ وہ جاری ہونے والی رقوم کو امریکی برآمدات پر خرچ کرے۔

ٹرمپ بار بار یہ کہہ رہے ہیں کہ ایرانی اثاثے جنہیں غیر منجمد کیا جائے گا، وہ صرف امریکی زرعی مصنوعات اور ادویات خریدنے کے لیے استعمال ہوں گے۔
یاد رہے کہ 18 جون کو ٹرمپ اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے دستخط کردہ مفاہمت کے مسودے میں اس کی 14 شقوں میں سے ایک میں تہران کو واشنگٹن کی طرف سے عائد پابندیوں میں نرمی دینے کے ساتھ ساتھ بیرون ملک منجمد اس کے کچھ مالی اثاثوں کو جاری کرنے کا ذکر کیا گیا تھا۔

اس دوران وزارت خزانہ نے اعلان کیا کہ وہ مذاکرات کے جاری رہنے کے دوران 21 اگست تک ایرانی خام تیل اور متعلقہ مصنوعات کی پیداوار، فروخت اور ترسیل پر عائد پابندیاں عارضی طور پر اٹھا لے گی۔

جبکہ منجمد رقوم، جوہری ایجنسی کی جانب سے جوہری تنصیبات کے معائنے اور آبنائے ہرمز تک پہنچنے اور 60 دن کی مہلت کے بعد اس پر فیس عائد کرنے کے امکان سمیت کئی مسائل پر امریکی اور ایرانی بیانات میں تضاد پایا جاتا ہے۔ یہ مہلت دونوں فریقوں کے درمیان تکنیکی مذاکرات منعقد کرنے کے لیے دی گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں