یہ کوشش ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ان کی پہلی مدت صدارت کے دوران جاری کردہ صدارتی نیشنل سکیورٹی میمورنڈم پر عمل درآمد کے لیے ہے (روئٹرز)

ٹرمپ انتظامیہ کا غیر ملکی جاسوسوں کی ایک مرکزی فہرست بنانے کے لیے دباؤ

یہ دباؤFBI اور CIA کی مخالفت کے باوجود ڈالا جا رہا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے انکشاف کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کو پابند بنانے کی کوشش کر رہی ہے کہ وہ غیر ملکی جاسوسی کے اہداف، بشمول مشتبہ جاسوسوں اور ممکنہ بھرتی ہونے والوں کی تفصیلی فہرستیں ایک ہی مرکزی فہرست میں یکجا کریں۔ اس اقدام کو ایف بی آئی اور سی آئی اے کے سینئر انسدادِ جاسوسی حکام کی جانب سے سخت مخالفت کا سامنا ہے۔

اخبار کے مطابق یہ کوشش 2017 میں اپنی پہلی مدت صدارت کے دوران ٹرمپ کی جانب سے جاری کردہ صدارتی نیشنل سکیورٹی میمورنڈم نمبر 7 (NSPM-7) پر عمل درآمد کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس میں وفاقی ایجنسیوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ قومی سلامتی کے لیے خطرہ بننے والے عناصر کے بارے میں درست اور جامع معلومات کو محفوظ اور مربوط نظاموں میں یکجا کریں۔

قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھے جانے والے عناصر کے وسیع دائرہ کار میں نہ صرف روایتی جاسوس، بلکہ بین الاقوامی مجرمانہ گروہ، ہیکرز، غیر ملکی کمپنیاں اور دیگر ادارے بھی شامل ہیں۔ اس اقدام کے حامیوں کا مقصد ایک ایسا نظام بنانا ہے جو "دہشت گردی کی واچ لسٹ" کی طرح ہو، جس سے عالمی سطح پر اہداف کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جا سکے اور ایجنسیوں کے درمیان رابطے کو بہتر بنایا جا سکے۔

یہ کوششیں سابق ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جنس تلسی گبارڈ کے دور میں شروع ہوئی تھیں، جو اب ان کے جانشین بِل بولٹ کی قیادت میں جاری ہیں۔ بِل بولٹ کو ڈونلڈ ٹرمپ کا قریبی اتحادی سمجھا جاتا ہے، تاہم انٹیلی جنس کے شعبے میں تجربہ نہ ہونے کی وجہ سے دیگر ایجنسیاں محتاط ہیں۔

ایف بی آئی اور سی آئی اے کے انسدادِ جاسوسی حکام نے اس تجویز پر نمایاں مزاحمت کی ہے اور اسے غیر ضروری اور خطرناک قرار دیا ہے۔ ناقدین خبردار کرتے ہیں کہ خفیہ اہداف کی شناخت اور معلومات کے حساس ذرائع کو ایک مرکزی ذخیرے میں جمع کرنے سے سکیورٹی کے غیر معمولی خطرات پیدا ہو سکتے ہیں، خاص طور پر اگر ڈیٹا ہیک ہو جائے۔ ماہرین کو یہ خدشہ بھی ہے کہ اس سے اہداف کی شناخت ظاہر ہو سکتی ہے، جس سے طویل مدتی خفیہ آپریشنز ناکام ہو سکتے ہیں۔ کچھ ڈیٹا فارن انٹیلی جنس کورٹ (FISA) سے حاصل کردہ ہے، جس کی شیئرنگ پر سخت پابندیاں عائد ہیں۔

سی آئی اے نے اس حوالے سے تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے، جبکہ ایف بی آئی نے صرف اتنا کہا کہ وہ امریکی عوام کے سامنے ریکارڈ کھولنے کے لیے ایجنسیوں کے ساتھ کام کر رہی ہے۔

یہ تنازع آفس آف ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس اور دیگر انٹیلی جنس ایجنسیوں کے درمیان جاری کشیدگی کی عکاسی کرتا ہے، جو تلسی گبارڈ کے دور میں بڑھ گئی تھی۔ اب تک یہ تنازع حل نہیں ہو سکا ہے اور دونوں فریق فہرست کی تیاری، دیکھ بھال اور سکیورٹی کے معاملات پر اختلاف کا شکار ہیں۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں