ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے منگل کے روز کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ معاہدہ مکمل ہم آہنگی کے ساتھ رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کی مشاورت سے طے پایا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک کے اندر بعض حلقے ایرانی مذاکراتی ٹیم کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ایران اور امریکہ کے مذاکراتی وفود آج منگل کے روز دوحہ پہنچنے والے ہیں۔
اس سے قبل صدر پزشکیان نے کہا تھا کہ باہمی مفاہمت اس بات پر قائم ہے کہ دونوں ممالک معاہدے کی یادداشت (میمورنڈم) کی پابندی کریں گے اور ایران اپنی ذمہ داریاں اس صورت میں پوری کرے گا جب امریکی فریق بھی معاہدے کی پاسداری کرے۔
انہوں نے اپنے ایکس (X) اکاؤنٹ پر کہا کہ ایران کا رویہ غیر ضروری دھمکیوں اور طاقت کے مظاہرے کے مقابلے میں عقل مندی اور انسانی وقار کے تحفظ پر مبنی ہے، جبکہ وقت آنے پر فیصلہ کن اور مضبوط ردِعمل دیا جائے گا۔
تفاهم امری طرفینی است. اگر طرف آمریکایی به تفاهم نامه پایبند باشد ما هم به تعهداتمان عمل میکنیم.
— Masoud Pezeshkian (@drpezeshkian) June 29, 2026
رویکرد ما در مقابل رجزخوانیهای نامعقول و تهدیدهای بیپشتوانه، تکیه بر عقلانیت و کرامت انسانی در تصمیمگیریها و دفاع قاطع و بیپروا به هنگام عمل است.
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایرانی حکام نے منگل کے روز دوحہ میں ہونے والی ملاقات کی درخواست کی ہے، جبکہ تہران کا کہنا ہے کہ ایک تکنیکی وفد اس ہفتے قطر کا دورہ کرے گا تاکہ امریکہ کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کا جائزہ لیا جا سکے۔
ٹرمپ کا یہ بیان ایران اور عمان کے درمیان حالیہ دوطرفہ مذاکرات کے بعد سامنے آیا، جو آبنائے ہرمز کی صورتحال پر جنگ کے بعد پہلی بات چیت تھی، جبکہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان گزشتہ ہفتے کے آخر میں دوبارہ شروع ہونے والی کشیدگی کے بعد حملوں کے تبادلے کو روکنے پر بھی اتفاق ہوا تھا۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر اعلیٰ سطحی اجلاسوں میں شرکت کے لیے اس ہفتے دوحہ جائیں گے۔
ایک باخبر سفارت کار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ تکنیکی ٹیمیں آئندہ دنوں میں ملاقات کریں گی اور رابطے کے ذرائع فعال ہیں تاکہ مسائل کو قابو میں رکھا جا سکے۔
ایک امریکی عہدیدار کے مطابق مذاکرات کا مقصد مفاہمتی یادداشت کے تمام پہلوؤں پر تکنیکی بات چیت جاری رکھنا ہے اور فی الحال دونوں فریقین نے حملے روکنے پر اتفاق کیا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف میں بحری جہازوں کی آزادانہ آمد و رفت ممکن ہوگی۔
ایران کی تردید
دوسری جانب تہران نے امریکیوں کے ساتھ تکنیکی سطح پر مذاکرات کے انعقاد کے منصوبوں کی تردید کی ہے۔ تاہم ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا ہے کہ ایک خصوصی وفد اس ہفتے کے آخر میں دوحہ کا دورہ کرے گا۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اس دورے کا مقصد مفاہمتی یادداشت کے تحت طے شدہ وعدوں پر عملدرآمد کی نگرانی کرنا ہے، جس میں گیارھویں شق بھی شامل ہے، جو منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی سے متعلق ہے۔
آبنائے ہرمز پھر تنازع کا مرکز، ایران،امریکہ مفاہمتی یادداشت مزید کمزور
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ آنے والے دنوں میں امریکہ کے ساتھ کسی بھی سطح پر کوئی مذاکراتی اجلاس منعقد نہیں ہوگا، البتہ تہران کا دورہ کرنے والا وفد مفاہمتی یادداشت کے تحت طے شدہ وعدوں پر عملدرآمد کی نگرانی کے لیے ہوگا، جس میں گیارھویں شق بھی شامل ہے۔
آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا معاملہ ایک بار پھر ایران اور امریکہ کے درمیان بنیادی اختلافی نکتہ بن گیا ہے، جبکہ ایران اور سلطنتِ عمان اس راستے سے گزرنے والے جہازوں پر سروس فیس عائد کرنے پر غور کر رہے ہیں۔
یہ اقدام اقوام متحدہ کے سمندری قانون سے متصادم سمجھا جاتا ہے، جس کی ایران نے توثیق نہیں کی، تاہم یہ قانون بین الاقوامی آبناؤں میں بلا رکاوٹ بحری آمدورفت کی ضمانت دیتا ہے۔