ٹرمپ اور بنجمن نیتن یاھو کی متوقع ملاقات، اہم امور کے ساتھ سرخ لکیریں کون سی ہیں؟

امریکہ کے صدر کے مطابق ملاقات آئندہ ہفتے متوقع ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ اسرائیل کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے ان سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی درخواست کی ہے۔ ویب سائٹ ایکسیس کے مطابق صدر ٹرمپ نے اس بات کا قوی امکان ظاہر کیا ہے کہ یہ ملاقات نیٹو سربراہی اجلاس سے واپسی کے بعد آئندہ ہفتے کے اوائل میں ہو سکتی ہے۔

صدر ٹرمپ نے ایکسیس کے ساتھ ایک مختصر ٹیلی فونک انٹرویو میں اپنے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے تعلقات بہت اچھے ہیں۔ بنجمن نیتن یاھو جانتے ہیں کہ ’باس‘ کون ہے۔

ویب سائٹ نے وضاحت کی کہ اگر یہ ملاقات ہوتی ہے تو یہ فروری میں آپریشن روم میں ہونے والی ان کی تاریخی ملاقات کے بعد پہلی ملاقات ہوگی جس میں بنجمن نیتن یاھو نے ایران کے خلاف مشترکہ جنگ چھیڑنے کا اپنا منصوبہ پیش کیا تھا۔

اسرائیل کے وزیراعظم کے دفتر کا کہنا ہے کہ بنجمن نیتن یاھو نے جمعے کے روز ڈونلڈ ٹرمپ کو امریکہ کی آزادی کی 250 ویں سالگرہ پر مبارکباد دینے کے لیے فون کیا تھا۔

وزیراعظم کے دفتر نے مزید کہا کہ اپنی گفتگو کے دوران وزیراعظم نے کہا کہ امریکہ عالمی آزادی کا ضامن ہے اور اسرائیل دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعلقات کی انتہائی قدر کرتا ہے۔ وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو اور صدر ٹرمپ نے امریکہ میں جلد ملاقات کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

دورے کے لیے تاحال کوئی تیاریاں نہیں

دریں اثنا اخبار معاریو نے حکام کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ اب تک اس دورے کے لیے کوئی عملی تیاریاں نہیں کی گئی ہیں اور امکان ہے کہ یہ ملاقات آئندہ ہفتے نہیں ہو سکے گی۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

ایک اسرائیلی عہدیدار نے بھی واضح کیا کہ ٹرمپ کی مصروفیات جن میں ترکیہ کا متوقع دورہ بھی شامل ہے کے پیش نظر آئندہ ہفتے یہ ملاقات ہونا قبل از وقت ہو سکتا ہے جس کی وجہ سے یہ ملاقات اس سے اگلے ہفتے تک ملتوی ہو سکتی ہے۔ جبکہ دیگر اسرائیلی حکام نے تصدیق کی کہ ملاقات کی تاریخ تاحال حتمی نہیں ہے۔

ٹرمپ اور بنجمن نیتن یاھو کے درمیان یہ متوقع ملاقات ایک ایسے نازک وقت پر ہو رہی ہے جب دونوں رہنماؤں کے لیے علاقائی معاملات اور اندرونی سیاسی حساب کتاب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔

توقع ہے کہ دونوں فریق ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق سرخ لکیروں پر بات چیت کریں گے کیونکہ بنجمن نیتن یاھو چاہتے ہیں کہ ٹرمپ تہران کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی اپنائیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بھی توقع ہے کہ غزہ کی پٹی اور لبنان کا مستقبل ان کے مذاکرات میں سرفہرست ہوگا جہاں ٹرمپ کی جانب سے اسرائیل پر جنگیں جلد ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈالے جانے کا امکان ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں