امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے وائٹ ہاؤس میں ایک ملاقات کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ یہ ملاقات اگلے ہفتے کے آغاز میں ہی ہو سکتی ہے۔ نیوز ویب سائٹ کے مطابق ٹرمپ نے مزید کہا کہ نیتن یاہو کے ساتھ ان کے تعلقات بہت اچھے ہیں۔ اسرائیلی وزیر اعظم سمجھتے ہیں کہ قائد کون ہے۔ اسرائیلی چینل 15 نے رپورٹ کیا ہے کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو سے کہا ہے کہ وہ کوئی بھی ایسا قدم نہ اٹھائیں جس سے لبنان میں حالات خراب ہوں۔ ان کا یہ بیان لبنان کے جنوب کے بارے میں جاری سفارتی کوششوں کے ساتھ ساتھ خطے کو کسی نئے فوجی تصادم میں دھکیلنے سے روکنے اور امن برقرار رکھنے کی واشنگٹن کی کوششوں کا مظہر ہے۔
اسی دوران ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ اور ایران نے ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی آخری رسومات کی وجہ سے مذاکرات کو ایک ہفتے کے لیے معطل کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن اور تہران ہفتوں کے بالواسطہ رابطوں کے بعد مذاکراتی عمل کو دوبارہ شروع کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ ان مذاکرات کا مقصد ایرانی ایٹمی پروگرام، پابندیوں، منجمد ایرانی فنڈز کی بحالی اور دیگر معاملات پر مذاکرات کو بحال کرنا ہے۔
نیا دور
ایران کے ساتھ مذاکرات کو ایک ہفتے کے لیے معطل کرنے کا ٹرمپ کا اعلان اس وقت سامنے آیا جب العربیہ کے ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان 11 جولائی کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات کے نئے دور کی ميزبانی کرے گا۔ ذرائع کے مطابق اس دور میں امریکی پابندیوں، منجمد ایرانی فنڈز اور جوہری پروگرام کے معاملات پر بحث کی جائے گی۔ ایرانی وفد کی نمائندگی کی سطح کا تعین سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے خاتمے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ دور سوئٹزرلینڈ اور دوحہ میں ہونے والے دو اجلاسوں کے بعد اور دونوں فریقوں کے درمیان مہینوں کے بالواسطہ رابطوں کے بعد سامنے آ رہا ہے۔ پابندیاں ہٹانے، آبنائے ہرمز کے انتظام اور حالیہ جنگ کے بعد کے انتظامات کے حوالے سے اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔
This is hilarious from President Trump 🤣
— Donald J Trump Posts TruthSocial (@TruthTrumpPost) July 2, 2026
The treatment is simple... If you ever feel anxious, just have a Diet Coke.😂 pic.twitter.com/m9159IjJUP
مسلسل ہم آہنگی
ٹرمپ کے بیانات ان رپورٹس کے ساتھ سامنے آئے ہیں جن میں خطے کے معاملات خاص طور پر ایران اور مشرق وسطیٰ کی امن صورتحال پر امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری ہم آہنگی کے پیش نظر وائٹ ہاؤس میں نیتن یاہو کے ساتھ ایک نئی ملاقات کی میزبانی کے امکان کا اشارہ دیا گیا ہے۔ داخلی معاملے پر ٹرمپ نے اپنی انتظامیہ کی کارکردگی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ایک سے زیادہ محاذوں پر کامیابیاں حاصل کر رہا ہے۔
انہوں نے ’’ ٹروتھ سوشل ‘‘پر ایک پوسٹ میں کہا کہ امریکہ اس حد تک جیت رہا ہے کہ بائیں بازو کے لوگ حقیقت کو قبول کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی انتظامیہ غیر معمولی رفتار سے اقتصادی بالادستی کی بحالی، سرحدوں کو محفوظ بنانے اور قومی فخر کو بڑھانے پر کام کر رہی ہے۔ اپنی پوسٹ کے آخر میں انہوں نے استفسار کیا کہ کیا کسی نے کبھی کسی خوش ڈیموکریٹ کو دیکھا ہے؟