The kingdom, home to more than 500,000 Syrian refugees, says arms smuggling across the border with Syria has risen by 300 percent in the past year. (File photo: Reuters)
اردن : سرحد عبور کرنیوالے سات افراد تصادم کے بعد گرفتار
شام سے داخل ہونے کی کوشش میں چار افراد زخمی بھی ہو گئے
اردن کے سرحدی محافظین نے جنگ زدہ شام سے غیر قانونی طور پر اردن میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے چار افراد کو تصادم کے بعد گرفتار کر لیا ہے۔ فوجی ترجمان کے مطابق جنگجو گروپ کے تین دوسرے ارکان نے خود کو رضا کارانہ طور پر اردنی فوج کے حوالے کر دیا ہے۔ یہ تینوں بھی غیر قانونی طور پر سرحد عبور کر کے اردن میں داخل ہونے کی کوشش میں تھے۔
رضاکارانہ طور پر خود کو اردن کے سرحدی حکام کے حوالے کرنے والے تین افراد اردن کی شہریت رکھنے کے ساتھ ساتھ ایک اور عرب ملک کی شہریت بھی رکھتے ہیں۔ یہ بات اردن کی فوج کیطرف سے جاری کیے گئے ایک مختصر بیان میں کہی گئی ہے۔
واضح رہے شام کے ساتھ سرحدی اعتبار سے جڑے ہوئے پڑوسی ملک اردن میں جہاں ایک جانب لاکھوں شامی شہری تین سالہ خانہ جنگی کے باعث پناہ گزین ہو چکے ہیں، وہیں سینکڑوں اردنی شہری شام میں اسلام پسند عسکریت پسندوں کی طرف سے بشار رجیم کے خلاف لڑ بھی رہے ہیں۔
فوجی بیان میں کہا گیا ہے کہ اردن اور شام کی سرحد پر اردنی محافظین کے ساتھ تصادم کرنے والے چار مداخلت کار اس مڈ بھیڑ میں زخمی ہو گئے ہیں۔ تاہم فوج کے جاری کیے گئے بیان میں یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ ان میں سے کسی کی حالت خطرے میں ہے۔
بیان کے مطابق سرحدی محافظین نے ان مداخلت کاروں کو اس وقت طاقت سے روکا جب انہوں نے پرامن انتباہ کی پروا نہ کی۔ اس طرح مڈ بھیڑ میں چاروں افراد زخمی ہو گئے، جس کے بعد انہیں ہسپتال میں داخل کرا دیا گیا ہے۔ تین دوسرے افراد کے ایک اور واقعے میں خود کو رضاکارانہ طور پر سرحدی محافظین کے حوالے کر دیا۔ واضح رہے شام اردن پر مسلسل الزام لگاتا ہے کہ اردن باغیوں کی مدد کرتا ہے، جبکہ اردن اس الزام کی تردید کرتا ہے۔