عراقی فوجی جرف السخر میں داعش کے جنگجوؤں کے خلاف لڑائِی میں شریک ہیں۔
عراقی فوج میں اکھاڑپچھاڑ، 26 افسر برطرف
وزیراعظم عبادی نے 18 نئے کمانڈروں کا تقرر کردیا
عراق کے وزیراعظم حیدرالعبادی نے فوج میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی ہیں اور چھبیس افسروں کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا ہے،دس کو جبری ریٹائر کردیا ہے اور اٹھارہ نئے کمانڈروں کا تقرر کیا ہے۔
العربیہ نیوز کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم حیدر العبادی نے اس سلسلے میں بدھ کو ایک حکم نامہ جاری کیا ہے۔انھوں نے اگست میں برسراقتدار آنے کے بعد پہلی مرتبہ فوج کی مرکزی کمان میں اس طرح اکھاڑ پچھاڑ کی ہے۔
ان کے پیش رو وزیراعظم نوری المالکی اپنے آٹھ سالہ دور اقتدار میں فرقہ وارانہ ایجنڈے پر عمل پیرا رہے تھے جس سے فوج کا ادارہ کمزور ہوگیا تھا اور جون کے اوائل میں جب دولت اسلامیہ (داعش) کے جنگجوؤں نے عراق کے شمالی شہروں پر یلغار کی تو وہاں سے ہزاروں عراقی فوجی اپنا اسلحہ ،فوجی سازوسامان اور وردیاں تک چھوڑ کر بھاگ گئے تھے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ نوری المالکی نے فرقہ وارانہ اور ذاتی پسند وناپسند کی بنیاد پر فوج کو منظم کیا تھا اور انھوں نے قومی مفاد اور پیشہ وارانہ امور کو ہرگز بھی ملحوظ خاطر نہیں رکھا تھا۔
عراق کے آئین کے تحت وزیراعظم مسلح افواج کا جنرل کمانڈر ہوتا ہے۔حیدرالعبادی کے برسراقتدار آنے سے قبل فوج کی بہت سی ایلیٹ بریگیڈز نوری المالکی کے براہ راست احکامات پر چلتی تھیں۔
اب حیدرالعبادی عراقی فوج کی پیشہ وارانہ صلاحیت کو بحال کرنے کے لیے کوشاں ہیں اور اس کو ازسرنو منظم کررہے ہیں۔انھیں اس ضمن میں امریکا کی معاونت حاصل ہے اور اس نے عراقی فوج کی تربیت کے لیے اپنے سیکڑوں مشیران بغداد بھیج رکھے ہیں۔