عراقی فوج کا داعش کے خلاف بڑا آپریشن جاری
عراقی فورسز نے ملک کے شمال میں ترکمان آبادی کے اکثریتی علاقے امرلی پر شدت پسند تنظیم 'داعش' کا قبضہ ختم کرانے کے لیے ایک بڑے آپریشن کا آغاز کیا ہے۔
ایک غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دجلہ کے چیف آپریشنز جنرل عبدالامیر الزیدی کا کہنا ہے کہ امرلی قصبے پر "داعش" کے دو ماہ سے جاری محاصرے کو ختم کرنے کے لیے فوج کا بیک وقت زمینی اور فضائی آپریشن جاری ہے۔ انہوںنے دعویٰ کیا کہ داعش کے جنگجو جانیں بچانے کے لیے بھاگ رہے ہیں اور عراقی فوج تیزی کے ساتھ امرلی کی طرف پیش قدمی کر رہی ہے۔
عراقی فوجی عہدیدار کا کہنا تھا کہ امرلی قبصے کو داعش سے چھڑانے کے لیے ہزاروں فوجی، نیم خود مختآر صوبہ کردستان کی البشمرکہ فورسز کے علاوہ رضاکار جنگجوئوں کی بڑی تعداد بھی آپریشن میں حصہ لے رہی ہے۔
ادھر کردستان نیشنل الائنس کے ایک عہدیدار کریم ملا شکور نے بھی امرلی قبصے کا محاصرہ توڑنے کے لیے فوجی کارروائی کی تصدیق کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کُرد اور عراقی فورسز بغداد ۔ کرکوک مرکزی شاہراہ کو دوبارہ کھولنے کے لیے داعش کے جنگجوئوں پر مسلسل حملے کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز امرلی قصبے متصل ینکجہ گائوں میں داخل ہو گئی ہیں، جہاں داعش کے جنگجوئوں کے ساتھ گھمسان کی جنگ جاری ہے۔
مقامی حکام کا کہنا ہے کہ امرلی قصبے سے داعش کو نکالنے کے لیے تین اطراف سے حملے جاری ہیں۔
شمال میں الطوز میں السلام اور بسطامی کے مقامات سے فوجیں پیش قدمی کررہی ہیں۔ مشرقی سمت سے کفری چوک اور جنوب کی جانب سے العظیم چوک سے حملے کیے جا رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ترکمان آبادی والے علاقے امرلی پردولت اسلامی کے جنگجوئوں نے دو ماہ قبل قبضہ کرلیا تھا۔ شام اور عراق کی سرحد کے قریب یہ اہم ترین قصبہ سمجھا جاتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آپریشن کے دوران داعش کے درجنوں جنگجو مارے گئے ہیں جبکہ البشمرکہ فورسز کے کچھ اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔
-
موصل: "داعش" کے ٹھکانوں پر 15 امریکی فضائی حملے
اوباما کی عراق میں کارروائی محدود رکھنے کی یقین دہانی
مشرق وسطی -
عراق: گاوں پر داعش کا حملہ، 80 افراد ہلاک
ہلاک ہونے والوں میں بڑی تعداد یزیدی قبیلے کے لوگوں کی ہے
مشرق وسطی -
اقوام متحدہ کی عراق میں اعلیٰ سطح کی ایمرجنسی
اقوام متحدہ نے خانہ جنگی کا شکار عراق میں انسانی بحران کے پیش نظر اعلیٰ سطح کی ...
مشرق وسطی