صور نشرها مواقع سورية للمعسكر حيث يقطن جنود روس في سوريا

حلب: روسی افسران کی "حزب الله" کی قیادت سے ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اگرچہ عرب لیگ کی جانب سے روں سال مارچ میں دہشت گرد قرار دی جانے والی لبنانی تنظیم حزب اللہ کی قیادت اور روسی فوجی افسران کے درمیان شام میں کوآرڈی نیشن پہلی مرتبہ نہیں ہے.. تاہم حلب شہر میں روسی فوج کے افسران اور حزب اللہ کے رہ نماؤں کے درمیان ملاقات کو فریقین کی پہلی "سرکاری اور براہ راست" ملاقات شمار کیا گیا ہے۔

حزب اللہ کے زیر انتظام روزنامے "الاخبار" کے مطابق تقریبا ایک ہفتہ قبل ہونے والی یہ ملاقات روسیوں کی درخواست پر ہوئی۔ اخبار کا کہنا ہے کہ ملاقات کے نتیجے میں شام میں فریقین کے درمیان سکیورٹی کوآرڈی نیشن میں اضافہ ہوگا۔ خبر کے مطابق ملاقات میں سینئر روسی افسران موجود تھے تاہم "حزب الله" کی قیادت کے ناموں اور عہدوں کے بارے میں نہیں بتایا گیا۔

رواں برس 26 فروری کو "کارنیگی" سینٹر فار مڈل ایسٹ کی جانب سے شائع کی جانے والی رپورٹ میں شام میں حزب اللہ اور روس کے درمیان رابطوں کا انکشاف کیا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق لاذقیہ اور دمشق میں روس اور حزب اللہ کے درمیان کم از کم دو آپریشنز روم ہیں۔

رپورٹ میں حزب اللہ کے عناصر اور روسی افواج کے درمیان مشترکہ عسکری کارروائیوں کی جانب بھی اشارہ کیا گیا تھا۔

ادھر بشار الاسد کی فوج کے ترجمان نے دو روز قبل اعلان کیا تھا کہ شامی حکومت رضاکاروں پر مشتمل ایک عسکری فورس تشکیل دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ریاست کے ملازمین کو اپنے سرکاری عہدے برقرار رکھتے ہوئے اس فورس سے وابستہ ہونے کی اجازت دی جائے گی۔ مذکورہ فورس سے وابستہ ہونے والے افراد کو 250 سے 350 ڈالر کی ادائیگی کی جائے گی۔ شامی حکومت کے نزدیکی ذرائع نے بتایا ہے کہ اس "فورس" کو تربیت اور مالی رقوم کی فراہمی کے لیے حکومت کے "دوستوں" اور "دوستوں کے خزانے" یعنی بالخصوص ایران سے مدد لی جائے گی۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں