Your browser doesn’t support HTML5 video

یمن : تعز کے لیے 64 امدادی بوگیاں حوثیوں کے قبضے میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں مقامی انتظامیہ کے وزیر اور امداد کی سپریم کمیٹی کے سربراہ عبدالرقیب فتح نے تعز صوبے کے اہلیان کو بھوک سے دوچار کرنے کی تمام تر ذمے داری باغی ملیشیاؤں پر عائد کی ہے۔ وزیر کے مطابق باغیوں نے تعز صوبے کے لیے امداد سے بھری ٹرین کی 64 بوگیوں کو روکا ہوا ہے۔ عبدالرقیب فتح کا کہنا ہے کہ مذکورہ امدادی بوگیاں نومبر کے اوائل میں الحدیدہ کی بندرگاہ سے تعز صوبے کی جانب بھیجی گئی تھیں۔

باغیوں کی جانب سے مقرر کردہ صوبے کے سکریٹری امین حمیدان نے مذکورہ امدادی بوگیوں اور ان کے ڈرائیوروں کو چھوڑنے سے انکار کر دیا۔ یمنی وزیر عبدالرقیب نے باور کرایا کہ تعز میں بوگیوں کے روک لیے جانے کی وجہ سے ٹھیکے داروں نے مزید امدادی سامان الحدیدہ سے تعز لے جانے سے انکار کر دیا ہے۔

یمنی وزیر نے یمن میں اقوام متحدہ کے انسانی امور کے کوآرڈی نیٹر جيمی مک گولڈرک اور خوراک کے عالمی پروگرام سے مطالبہ کیا ہے کہ باغی ملیشیاؤں کے حوالے سے سخت موقف اپنایا جائے جو تعز صوبے کے لیے بھیجی جانے والی امداد کو روک لینے پر کام کر رہی ہیں۔

عبدالرقیب فتح نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ انسانی امداد کی بوگیوں کو فوری طور پر آزاد کرا کر انہیں الم ناک صورت حال سے دوچار یمنی عوام تک پہنچائے جانے کو یقینی بنایا جائے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں