Your browser doesn’t support HTML5 video
شامی جیش الحر نے آستانہ مذاکرات پر بات چیت معطل کر دی
بشار الاسد کی فوج اور ملیشیا فائر بندی معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کر رہے ہیں
شامی اپوزیشن جماعتوں پر مشتمل فری سیرئین آرمی المعروف جیش الحر نے قازقستان کے شہر آستانہ میں 17 جنوری کو ہونے والے مذاکرات سمیت شام میں کی جانے والی حالیہ فائر بندی سے متعلق تمام ملاقاتوں کو بشار الاسد حکومت کی جانب سے فائر بندی کی خلاف ورزیاں روکنے تک معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔
شام میں بشار الاسد حکومت کا تختہ الٹنے کی خاطر فوجی جدوجہد کرنے والی تنظیموں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ترکی اور روس کے درمیان طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے مطابق فائر بندی کا اطلاق شام کے تمام علاقوں میں ہو گا تاہم جن علاقوں میں داعش کے خلاف آپریشن جاری ہے، وہ فائر بندی میں شامل نہیں ہیں۔
معاہدے کے ضامنوں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ بشار الاسد اور انہیں تعاون فراہم کرنے والی ملیشیاؤں کو فائر بندی کا پابند بنائیں گے لیکن شامی حکومت اور اس کی ہمنوا ملیشیا تنظیمیں جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزی کر رہی ہیں۔ انہوں نے مشرقی دمشق میں وادی بردی، حماہ کے مضافات اور مشرقی الغوطہ اور درعا میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا ارتکاب کیا ہے۔
جیش الحر کے بیان کے مطابق شامی حکومت فائر بندی کی مسلسل خلاف ورزی کر رہی ہے جس سے ہزاروں شامیوں کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ اسی وجہ سے اپوزیشن جماعتوں نے قازقستان مذاکرات کے حوالے کسی بھی قسم کی بات چیت روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔ نیز فائر بندی پر مکمل عمل درآمد کئے بغیر اپوزیشن جماعتیں اس سے متعلق کسی بھی قسم کے مذاکرات سے دور رہیں گی۔