داعش کے خلاف روس، جیش الحر کی مدد کو تیار
شام میں صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کا وقت آ گیا: روسی وزیر خارجہ
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ دولت اسلامی "داعش" کو شکست دینے کے لیے مغرب کی حمایت یافتہ شامی اپوزیشن کی فوج "جیش الحر" کو فضائی معاونت فراہم کی جا سکتی ہے۔
روسی وزیر خارجہ نے ہفتے کے روز "رشیا 1" ٹی وی چینل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ہم شام میں جیش الحر نامی اپوزیشن کی فوج کی فضائی معاونت کے لیے تیار ہیں بشرطیکہ وہ بشارالاسد کے بجائے داعش کے خلاف لڑائی میں ہمارے ساتھ تعاون کرے۔
انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ شام میں جاری بحران کے حل کے لیے آزادانہ اور شفاف پارلیمانی اور صدارتی انتخابات عمل میں لائے جائیں۔ لاوروف کا کہنا تھا کہ شام کے بحران کے سیاسی حل کی خاطر جاری مساعی میں کسی متفقہ سمجھوتے تک پہنچنے کا قوی امکان موجود ہے۔
خیال رہے کہ روس شام میں صدر بشارالاسد کی غیر مشروط حمایت کے ساتھ اسدی فوج کی معاونت کے لیے بھی عملاً میدان میں کود پڑا ہے۔ ماسکو کسی بھی صورت میں شام کے بحران کا اصل سبب صدر بشارالاسد کو اقتدار سے الگ کرنے کا حامی نہیں ہے۔ جمعہ کے روز ویانا میں امریکا، سعودی عرب، ترکی اور روس پر مشتمل گروپ چار کے درمیان ہوئی بات چیت بھی اسی نکتے پر تعطل کا شکار ہو گئی تھی۔
آئںدہ ہفتے پھر صدر بشارالاسد کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے کوئی لائحہ عمل مرتب کرنے کے لیے چاروں ملکوں کی قیادت دوبارہ بات چیت کرے گی۔
-
عراق، روس سے داعش پر حملوں کا کبھی نہیں کہے گا: امریکا
امریکا کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف میرین جنرل جوزف ڈنفورڈ نے عراق میں مستقبل ...
مشرق وسطی -
شام کی صورتحال اور روس کی بڑھتی ہوئی دلچسپی
شام کی صورت حال ان دنوں عالمی منظر نامے پر نظر رکھنے والے افراد کی توجہ کا مرکز ...
سیاست -
روس کی فوجی مداخلت بشارالاسد کو نہیں بچا سکے گی: اولاند
فرانسیسی صدر فرانسو اولاند نے کہا ہے کہ روس کی فوجی مداخلت بھی شامی صدر بشارالاسد ...
بين الاقوامى