عراقی فوجی موصل کے قریب داعش کے ساتھ لڑائی میں مصروف ہیں۔

داعش نے نقل مکانی کرنے والوں کی نعشیں کھمبوں سے لٹکا دیں

فرار بھی موصل کے شہریوں کو داعش کے ظلم سے نہ بچا سکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے شمالی شہر موصل میں جنگی جرائم میں ملوث شدت پسند گروپ داعش نے شہری آبادی کو جنگ میں ڈھال بنا رکھا ہے۔ داعش کے چنگل سے فرار کی کوشش کرنے والے شہری بھی دہشت گردوں کے ظلم وستم سے محفوظ نہیں۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ داعش نے فرار کی کوشش کرنے والے دسیوں شہریوں کو قتل کرکے عبرت کے لیے ان کی لاشیں بجلی کے کھمبوں سے لٹکا دی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مغربی موصل میں جہاں داعش اور عراقی فورسز کے درمیان گھمسان کی لڑائی جاری ہے وہاں پر عام شہری سنگین مشکلات سے دوچار ہیں۔ شہری داعش کے چنگل سے نجات پانے اور جنگ سے بچنے کے لیے نقل مکانی کی کوشش کررہے ہیں مگر دہشت گرد عناصر فرار کی کوشش کرنے والوں کو گرفتار کرکے انہیں قتل کرتے اور ان کی نعشیں کھمبوں سے لٹکا دیتے ہیں۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ موصل کی مرکزی جامع مسجد جہاں سے تین سال قبل داعش نے اپنی خود ساختہ خلافت کا اعلان کیا تھا کے اطراف میں لڑائی جاری ہے۔

ایک مقامی شہری نے ٹیلیفون پر خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کو بتایا کہ داعشی دہشت گردوں ’التنک‘ کالونی کے تین نوجوانوں کو فرار کی کوشش کے دوران پکڑ کر گولیوں سے چھلنی کردیا جس کے بعد ان می لاشیں بجلی کے کھمبوں پر لٹکا دیں۔ کئی دوسرے افراد کی لاشیں بھی خستہ حالت میں کھمبوں پر لٹکائی گئی ہیں۔ ان تمام افراد کو مغربی موصل سے بھاگنے کی پاداش میں قتل کیا گیا۔

عراق کی کردستان سیکیورٹی کونسل کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ سوموار اور منگل کے ایام میں مغربی موصل میں داعش نے 140 شہریوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔

الفاروق کالونی کے مقامی باشندوں نے بتایا کہ نقل مکانی کی کوشش کےدوران فرار ہونے والے 40 شہریوں کو شدت پسندوں نے گرفتار کرکے قتل کردیا۔

الشھوان کالونی میں چھ افراد پر مشتمل ایک خاندان جس میں ایک بوڑھا شخص بھی شامل تھا کو نقل مکانی کے الزام میں گولیاں مار کر قتل کردیا۔

یرموک کالونی کی ایک خاتون نے بتایا کہ وہ اپنے شوہر اور بچوں سمیت 30 افراد کے ایک گروپ کے ہمراہ فرار کی کوشش کرنا چاہتے تھے مگر داعش نے انہیں حراست میں لے لیا۔ بعد ازاں بیشتر افراد کو نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا جب کہ خواتین کو رہا کر دیا تھا۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں