تلعفر
العیاضیہ کا معرکہ موصل سے زیادہ خون ریز ہے : عراقی فوج
عراقی مشترکہ افواج کا کہنا ہے کہ اسے العیاضیہ کے جنوب میں داعش تنظیم کے خلاف گھمسان کی لڑائی کا سامنا ہے.. اور شدت پسند تنظیم تلعفر کے شمال میں شامی سرحد سے ملانے والے راستے پر واقع اپنے اس آخری گڑھ کی حفاظت کے لیے بھرپور مزاحمت کر رہی ہے۔
ادھر فوجی ذرائع نے منگل کے روز انکشاف کیا ہے کہ وہ العیاضیہ پر کنٹرول حاصل کرتے ہی مکمل فتح کا اعلان کر دیں گے۔
سیکڑوں داعشی گھروں کے اندر
عسکری انٹیلی جنس کی معلومات کے مطابق داعش تنظیم کے سیکڑوں شدت پسند تلعفر سے فرار ہو کر اس وقت العیاضیہ کے گھروں کے اندر روپوش ہیں۔ ذرائع نے العیاضیہ کے معرکے کو گھمسان ترین اور خون ریز ترین قرار دیا ہے بالخصوص جب کہ شدت پسندوں کے سامنے موت یا ہتھیار ڈالنے کے سوا کوئی اختیار باقی نہیں رہا۔
دہشت گرد تنظیم کے عناصر کی جانب سے نشانچیوں کی فائرنگ ، مارٹر گولوں ، بھاری خود کار ہتھیاروں اور بکتر بند شکن راکٹوں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ وہ زیادہ تر بلند عمارتوں اور مکانات کے اندر تعینات ہیں۔
دوسری جانب عراقی افواج العیاضیہ پر بھرپور دھاوا بولنے سے پہلے داعش کے عناصر کو فضائی حملوں کا نشانہ بنا رہی ہے۔
لڑائی میں شریک ایک عسکری قائد کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ آخری مگر انتہائی خون ریز معرکہ ہے۔ مذکورہ ذریعے کے مطابق العیاضیہ میں شدت پسندوں کی اولین دفاعی لائن کو ختم کرنا موصل میں اولڈ سٹی کا علاقہ واپس لینے کے معرکے سے زیادہ سخت ثابت ہوا۔