یمن کے وزیر خارجہ خالد الیمانی

الحدیدہ کے کنٹرول کے لیے اقوام متحدہ کی زیرنگرانی یمنی حکومت کی کمیٹی قائم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے وزیر خارجہ خالد الیمانی نے کہا ہے کہ حوثی ملیشیا نے الحدیدہ گورنری اور بندرگاہ کے حوالے سے حکومت کے ساتھ طے پائے معاہدے پر عمل درآمد پر آمادگی ظاہر کردی ہے۔ معاہدے پرعمل درآمد آخری مراحل میں ہے۔

'العربیہ' چینل سے بات کرتے ہوئے یمنی وزیر خارجہ نے کہا کہ حوثیوں اور حکومت کا الحدیدہ کے حوالے سے حتمی نتیجے تک پہنچنا آئینی حکومت اور ملک میں امن مساعی کی فتح ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں‌نے کہا کہ ایران سے حوثیوں کو اسلحہ کی سپلائی روکنے کے لیے اقوام متحدہ کے پرانے فارمولے پرعمل درآمد نہیں کیا گیا کیونکہ حوثیوں نے جیبوتی کو اپنا مرکز بنا رکھا تھا۔ نئے معاہدےکے تحت حوثی ملیشیا ایران سے کسی قسم کی فوجی امداد حاصل نہیں کرسکے گی.

ایک سوال کے جواب میں الیمانی کا کہنا تھا کہ الحدیدہ میں‌جنگ بندی کا معاہدہ نافذہ العمل ہوگیا ہے۔ حکومت نے رابطہ کاری کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے اور الحدیدہ میں سرکاری فوج اور پولیس کو منتقل کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھاکہ بہت جلد الحدیدہ میں زندگی معمول پرآجائے گی۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں