الحدیدہ بندرگاہ سے انخلاء سے قبل حوثیوں کی بڑے پیمانے پر لوٹ مار
یمن میں حکومت اور باغیوں کےدرمیان طے پائے معاہدے کے بعد حوثیوں نے ساحلی شہر اور الحدیدہ بندرگاہ سے انخلاء شروع کردیاہے۔ دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہےکہ حوثی شدت پسندوں نے انخلاء سے قبل بڑے پیمانے پر لوٹ مار کی ہے۔ باغیوں نے سرکاری اور نجی املاک کے ساتھ ساتھ دستاویزات بھی لوٹنا شروع کی ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہےکہ حوثیوںکی جانب سے خوراک، گاڑیاں، بنیادی ضروریات کی دیگر چیزوں کی لوٹ مارکے بعد سامان ٹرکوں پر لاد کر نامعلوم مقامات کی طرف لے جایا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق حوثی شدت پسندوں نے تین ہفتے سے الحدیدہ شہر اور بندرگاہ میں لوٹ مار شروع کر رکھی ہے۔حوثی باغی فوجی وردیوں میں ملبوس ہو کرکارروائیاں کرتےہیں۔ فوج اور پولیس کی گاڑیوں میں لوٹ مار کی کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔
حوثیوں کی جانب سے یہ لوٹ مار ایک ایسے وقت میںجاری ہے جب دو روز قبل حوثی باغیوں اور فوج کے درمیان فائر بندی کا معاہدہ ہوا تھا۔ فریقین کےدرمیان ہونے والی اس فائر بندی معاہدے کے تحت حوثیوں کو الحدیدہ شہر اور بندرگاہ خالی کرنے پرمجبور کیا گیا تھا۔
-
یمنی حکومت اور اقوام متحدہ میں الحدیدہ کی بندرگاہ کی مشترکہ نگرانی پر اتفاق
یمن کے وزیر خارجہ خالد الیمانی نے واضح کیا ہے کہ الحدیدہ کی بندرگاہ ملک کی ...
بين الاقوامى -
الحدیدہ کی بندرگاہ تین دن سے خالی ، حوثیوں کا جہازوں کو داخلے کی اجازت دینے سے انکار
عرب اتحاد نے کہا ہے کہ یمن کی الحدیدہ بندرگاہ کو گذشتہ تین روز کے دوران میں ...
بين الاقوامى -
الحدیدہ بندرگاہ ہمارے سوا کسی اور کے حوالے کرنا ریاستی خود مختاری کی پامالی ہے
یمن میں آئینی حکومت نے باغی حوثی ملیشیا کی جانب سے الحدیدہ بندرگاہ کی نگرانی اقوام ...
مشرق وسطی