شامی خاتون اول اسماء اسد

شامی خاتون اول کے ماتحت ادارے امدادی تنظیموں کے منظم استحصال میں‌ ملوث

شام میں‌غریب شہریوں کے لیے آنے والی امداد منظور نظر گروپوں میں دی جانے لگی!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں جنگ زدہ عوام کی بہبود اور بحالی کے لیے عالمی سطح پر کئی ادارے امداد فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں مگر امدادی اداروں اور تنظیموں کو اسد رجیم کے قائم کردہ مختلف اداروں اور شخصیات کی طرف سے بلیک میلنگ، استحصال اور منظم لوٹ مار کا سامنا ہے۔

اقوام متحدہ اور دوسرے امدادی ادراروں کی طرف سے فراہم کردہ ریلیف من پسند افراد اور تنظیموں کو دیا جاتا ہے جب کہ غیر جانب دار تنظیمیں امداد کے حصول میں ناکام ہیں۔ اگر ایسے کسی ادارے کو امداد فراہم کی بھی جاتی ہے تو اس کی فوج کے ذریعے کڑی نگرانی کی جاتی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ‌ کو مصدقہ ذرائع سے اطلاع ملی ہے کہ دمشق اور دوسرے علاقوں میں امداد پہنچانے والی تنظیموں کو بلیک میل کرنے والے پانچ شامی اداروں میں ایک براہ راست خاتون اول اسماء الاسد کے ماتحت کام کرتا ہے۔

باوثوق ذریعے کے مطابق بشارالاسد کی حکومت میں وزارت سماجی بہبود اقوام متحدہ کی طرف سے دی جانے والی امداد پر اجارہ داری کے لیے اپنی قریبی تنظیموں کو لائسنس دینے کےلیے کوشاں۔ شامی وزارت سماجی بہبود ملک میں شہریوں کی مالی بہبود کے لیے اپنےحامی گروپوں کو نوازتی ہے۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ اسد رجیم کے زیر انتظام علاقوں میں سول سوسائٹی کی تنظیمیں دو گروپوں میں منقسم ہیں۔ ایک وہ جنہیں حکومت کی طرف سے اجازت نامہ فراہم نہیں‌ کیا گیا۔ ان کی آمدن اور فنڈز نہ ہونے برابر ہیں جبکہ دوسرا گروپ جنہیں حکومت کی طرف سے باقاعدہ پرمٹ جاری کیے گئے ہیں حکومتی نوازشات سے بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ عالمی اداروں کی طرف سے ملنے والی امداد بھی انہی اسد نواز گروپوں کے ذریعے تقسیم کی جاتی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سول سوسائٹی کی بیشتر تنظیمیں جنہیں حکومت کی طرف سے امداد حاصل کرنے اور ریلیف آپریشن میں حصہ لینے کا مجاز قرار دیا گیا ہے اقوام محدود شرائط پر اقوام متحدہ کے امدادی پروگراموں سے بھاری امداد حاصل کر سکتے ہیں۔ اسی طرح یہ ادارے پانچ مجاز شعبوں میں امداد صرف کرسکتے ہیں۔

اسماء الاسد کی نگرانی

ذرائع کا کہنا ہے کہ جس امدادی تنظیم کو بشارالاسد کی حکومت کی طرف سے لائسنس حاصل نہیں وہ اقوام متحدہ کے ریلیف پروگرامات سے فائدہ نہیں اٹھا سکتی۔ شام میں اقوام متحدہ کی امدادی اور ریلیف سرگرمیوں کی براہ راست نگرانی خٰاتون اول اسماء الاسد کرتی ہیں۔ انہوں نے امدادی اداروں کےاستحصال کے لیے'سیرین ڈویلپمنٹ ٹرسٹ' کےنام سے ایک ادارہ قائم کر رکھا ہے۔ اس کے علاوہ شام میں ہلال احمر، ترقی وماحولیات اور کئی مذہبی تنظیمیں بھی اسماء الاسد کو جوابدہ ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اگرچہ اقوام متحدہ کی طرف سے حاصل ہونے والی امداد بعض چھوٹے امدادی گروپوں میں تقسیم کی جاتی ہے مگر فوج کے ذریعے اس کی کڑی نگرانی کی جاتی ہے تاکہ اس کا 'غلط' استعمال نہ ہو سکے۔ شامی فوج انسداد دہشت گردی مانیٹرنگ کی آڑ میں امداد فراہم کرنے والے اداروں پر نظٍر رکھتی ہے۔

شام میں‌ امدادی آپریشن میں حصہ لینے والی ایک تنظیم کے عہدیدار نے شناخت ظاہر نہ کرنےئ کی شرط پر العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ بیرون ملک سے حاصل ہونے والی نقد امداد کا نصف سے زاید حصہ اسد رجیم کے انٹیلی جنس حکام کی تن خواہوں اور ان کے خاندانوں کی بہود پر صرف کیا جاتا ہے حالانکہ وہ کوئی کام نہیں کرتے۔ انہیں صرف اسد رجیم کی وفاداری کا صلہ دیا جاتا ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں